مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 249 of 632

مسیحی انفاس — Page 249

۲۴۹ شخص کو صلیب پر کھینچا گیا اور اسکے پیروں اور ہاتھوں میں کیل ٹھو کے گئے یہانتک وہ اس تکلیف سے غنی میں ہو کر مردہ کی سی حالت میں ہو گیا۔اگر وہ ایسے صدمہ سے نجات پاکر پھر ہوش کی حالت میں آجائے تو اُس کا یہ کہنامبالغہ نہیں ہوگا کہ میں پھر زندہ ہو گیا اور بلاشبہ اس صدمہ عظیمہ کے بعد بس کا بچ جانا ایک معجزہ تھا معمولی بات نہیں تھی۔لیکن یہ درست نہیں ہے کہ ایسا خیال کیا جائے کہ میں کی جان نکل گئی تھی۔یہ ہو کہ انجیلوں میں ایسے لفظ موجود ہیں لیکن یہ اس قسم کی انہیں ولیوں کی غلطی ہے جیسا کہ اور بہت سے تاریخی واقعات کے لکھنے میں انہوں نے غلطی کھائی ہے۔انجیلوں کے محقق شاریوں نے اس بات کو مان لیا ہے کہ انجیلوں میں دو حصے ہیں (1) ایک دینی تعلیم ہے جو جواریوں کو حضرت سیح علیہ السلام سے ملی تھی جو اصل روح انجیل کا ہے (۲) دوسرے تاریخی واقعات ہیں جیسے حضرت عیسی کا شجرہ نسب اوران کا پکڑا جانا اور مارا جانا اور یح کے وقت میں ایک معجزہ نما تالاب کا ہونا وغیرہ یہ وہ امور ہیں جو لکھنے والوں نے اپنی طرف سے لکھے تھے۔سو یہ باتیں الہامی نہیں ہیں بلکہ لکھنے والوں نے اپنے خیال کے موافق لکھے ہیں اور بعض جگہ مبالغہ بھی حد سے زیادہ کیا ہے۔جیسا کہ ایک جگہ لکھا ہے کہ میں قدرسیح نے کام کئے لینے معجزات دکھلائے اگر وہ کتابوں میں لکھے جاتے تو وہ کتابیں دنیا میں سمانہ سکتیں۔ریکس قدر مبالغہ ہے۔ماسوا اس کے ایسے بڑے صدمہ کو جو مسیح پر وارد ہوا تھا موت کے ساتھ تعبیر کرنا خلاف محاورہ نہیں ہے۔ہر ایک قوم میں قریبا یہ محاورہ پایا جاتا ہے کہ جو شخص ایک مہلک صدمہ میں بہتا ہو کر پھر آخری کھائے۔اسکو کہا جاتا ہے کہ نئے سرے زندہ ہوا اور کسی قوم اور ملک کے محادہ میں ایسی بول چال میں کچھ بھی تکلف نہیں۔ان سب امور کے بعد ایک اور بات ملحوظ رکھنے کے لائق ہے کہ برنباس کی انجیل میں جوغالبا کندن کے کتب خانہ میں بھی ہو گی یہ بھی لکھا ہے کہ مسیح مصلوب نہیں ہوا۔اور نہ صلیب پر جان دی۔اب ہم اس جگہ یہ نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ گوہ کتاب انجیلوں میں داخل نہیں کی گئی اور بغیر کسی فیصلہ کے رد کر دی گئی ہے مگر اس میں کیا شک ہے کہ یہ ایک پرانی