مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 248 of 632

مسیحی انفاس — Page 248

تھی کہ اُس کا خدائے تعالیٰ سے رشتہ تعلق ٹوٹ گیا تھا۔اور بجائے یک دلی اور یک جہتی کے مغائرت اور بائت اور عداوت اور بیزاری پیدا ہوگئی تھی۔اور بجائے نور کے دل پر تاریکی چھا گئی تھی۔یہ بھی یادر ہے کہ ایسا خیال صرف حضرت مسیح علیہ السلام کی شان نبوت اور مرتبہ رسالت کے ہی مخالفت نہیں بلکہ ان کے اس دعوی کمال اور پاکیزگی او محبت اور معرفت کے بھی مخالف ہے جو انہوں نے جابجا انجیل میں ظاہر کیا ہے۔انجیل کو پڑھ کر دیکھو کہ حضرت عیسی علیہ السلام صاف دعوی کرتے ہیں کہ میں جہان کا نور ہوں۔میں بادی ہوں۔اور میکں خدا سے اعلیٰ درجہ کی محبت کا تعلق رکھتا ہوں۔اور میں نے اُس سے پاک پیدائیں پائی ہے اور میں خدا کا پیارا بیٹا ہوں۔پھر با وجود ان غیر منفک اور پاکی تعلقات کے لعنت کا نا پاک مفہوم کیونکر مسیح کے دل پر صادق آسکتا ہے ہر گز نہیں پس بلا شبہ یہ بات ثابت ہے کہ مسیح مصلوب نہیں ہوا یعنے صلیب پر نہیں مرا کیونکہ اسکی ذات صلیب کے نتیجہ سے پاک ہے اور جبکہ مصلوب نہیں ہوا تو لعنت کے ناپاک کیفیت سے بیشک ا سکے ول کو بچایا گیا۔اور بلاشبہ اس سے یہ نتیجہ بھی نکلاکہ وہ آسمان پر ہرگز نہیں گیا کیونکہ آسمان پر جانا اس منصوبہ کی ایک جزء تھی اور مصلوب ہونے کی ایک فرع تھی۔پس جبکہ ثابت ہوا کہ وہ نہ لعنتی ہوا اور نہ تین دن کے لئے دوزخ میں گیا۔اور نہ مر تو پھر یہ دوسری نہ آسمان پر جانے کی بھی باطل ثابت ہوئی اور اس پر اور بھی دلائل ہیں جو انجیل سے پیدا ہوتے ہیں اور وہ ہم ذیل میں لکھتے ہیں۔چنانچہ مجلہ انکے ایک یہ قول ہے جو مسیح کے منہ سے نکلا لیکن میں اپنے جی اٹھنے کے بعد تم سے آگے جلیل کو جاؤں گا دیکھو مستی باب ۲۶ آیت ۳۲ - اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ مسیح قبر سے نکلنے کے بعد جلیل کی طرف گیا تھا نہ آسمان کی طرف۔اور مسیح کا یہ کلمہ کہ اپنے جی اُٹھنے کے بعد اس سے مرنے کے بعد جینا مرادہ نہیں ہوسکتا۔بلکہ چونکہ یہودیوں اور عام لوگوں کی نظر میں وہ صلیب پر مر چکا تھا اس لئے میسج نے پہلے سے اُنکے آئیندہ خیالات کے موافق یہ کلمہ استعمال کیا۔اور و حقیقت جس ۲۴۸