مسیحی انفاس — Page 223
۲۲۳ وأخذ أحدا من المعصومين۔لعله ذهل قوله السابق من كبر السن وأرذل العمر، وكان من المعمرين۔والعجب من الابن أنه كان يعلم أن معشر الجن سبق الإنس في الخطأ، ولا بیٹے نے جنوں کے ينتهجون محجة الاهتداء، بل تجاوزوا الحد في شباءة الاعتداء، ثم تغافل من لئے کیا کفارہ سوچا؟ - أمر سياتهم، وما توجه إلى مواساتهم وما شاء أن ينتفع الجن من كفارته ، ويكون لهم حياة من أبارته، ونجاة من نار ابدية التي أعدت لهم۔فما نفعهم إبارته ولا كفارته وكانوا يؤمنون بالمسيح كما شهد عليه الإنجيل بالبيان الصريح فكأن الابن ما دعا المذنبين إلى هذا القرى، وتقاعس كبخيل وضنين۔یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ومن المحتمل أن يكون للأب ابن آخر صلب لتلك المعشر ، بل من الواجبات ان باپ کا کوئی اور بیٹا ہو جو جنوں کے لئے صلیب يكون كذلك لتنجية العصاة۔فإن ابنا إذا صلب لنوع الإنسان مع قلة العصيان فكم دیا گیا ہو من حري أن يُصلب ابن آخر لنوع جنّي الذى ذنبهم أكبر وأكثر، وإلا فيلزم الترجيح بلا مرجح باليقين۔ويثبت بخل الأب أو بخل البنين ، ولا شك أن فكر مغفرة قوم عادين والتغافل من قوم آخرين عدول صريح وظلم مبين، بل يثبت کو توڑا اور وعدہ کے خلاف کیا اور گناہ گاروں کو چھوڑ دیا اور ایسے آدمی کو پکڑا جس پر کوئی گناہ نہیں تھا شاید وہ اپنا پہلا قول باعث بڑہاپے اور پیرانہ سالی کے بھول گیا کیونکہ معمر تھا۔اور بیٹے سے یہ تعجب ہے کہ وہ خوب جانتا تھا کہ جنوں کا گروہ آدمیوں سے گناہ میں بڑھ گیا ہے اور وہ سیدھا راستہ اختیار نہیں کرتے بلکہ بے راہی کی تیزی میں حد سے زیادہ بڑھ گئے ہیں پھر اس نے ان کے بارے میں تغافل کیا اور ان کی ہمدردی کے لئے کچھ توجہ نہ کی اور نہ چاہا کہ اس کے کفارہ سے جن کا گروہ فائدہ اٹھاوے اور ان کو اس ابدی عذاب سے نجات ہو جو ان کے لئے تیار کیا گیا ہے سو جنوں کو اس کے مصلوب ہونے نے کچھ بھی فائدہ نہ پہنچایا حالانکہ وہ اس پر ایمان لاتے تھے جیسا کہ اس پر انجیل گواہی دے رہی ہے پس گویا بیٹے نے اپنے اس کفارہ کی مہمانی کی طرف ان گنہگاروں کو نہیں بلایا اور بخیلوں کی طرح تاخیر کی اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ باپ کا کوئی اور بیٹا ہو۔جو جنوں کے لئے پھانسی دیا گیا ہو بلکہ یہ تو واجبات سے ہے کہ ایسا ہی ہو کیونکہ جب ایک بیٹا نوع انسان کے لئے جو تھوڑے ہیں پھانسی دیا گیا۔پس کس قدر لائق ہے کہ ایک دوسرا بیٹا جنوں کے لئے پھانسی ملے جو گناہ اور تعداد کے لحاظ سے بنی آدم سے بڑھے ہوئے ہیں۔ورنہ تریج بلا مرجع لازم آئے گی۔اور باپ اور بیٹوں کا بخل ثابت ہو گا۔اور کچھ شک نہیں کہ ایک قوم کی مغفرت کا فکر دوسری قوم سے تغافل صریح ظلم اور بجا کار وائی ہے بلکہ اس سے تو باپ کا جہل ثابت ہوتا ہے کیا اس کو معلوم نہیں تھا کہ گناہگار لوگ دو قومیں ہیں صرف ایک قوم نہیں سودو قوموں کے لئے صرف ایک بیٹے کا پھانسی دینا کافی نہیں