مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 197 of 632

مسیحی انفاس — Page 197

192 نجات کو اسی زندگی میں پالیتے ہیں مگر آپ کے مذہب میں حضرت عیسیٰ نے جو نشانیاں نجات یا بندوں یعنی حقیقی ایمانداروں کی لکھی ہیں وہ آپ میں کہاں موجود ہیں۔مثلاً جیسے کہ مرقس ۱۲ - ۱۷ میں لکھا ہے۔اور وے جو ایمان لائیں تھے ان کے ساتھ یہ علامتیں ہوں گی کہ وہ میرے نام سے دیووں کو نکالیں گے اور نئی زبانیں بولیں گے۔سانپوں کو اٹھا لیں گے اور اگر کوئی ہلاک کرنے والی چیز پہنیں گے انہیں کچھ نقصان نہ ہو گا۔وے بیماروں پر ہاتھ رکھیں گے تو چنگے ہو جائیں گے۔تو اب میں بادب التماس کرتا ہوں اور اگر ان الفاظ میں کچھ درشتی یا مرارت ہو تو اس کی معافی چاہتا ہوں کہ یہ تین بیمار جو آپ نے پیش کئے ہیں یہ علامت تو با خصوصیت مسیحیوں کے لئے حضرت عیسی قرار دے چکے ہیں اور فرماتے ہیں کہ اگر تم سچے ایماندار ہو تو تمہاری یہی علامت ہے کہ بیمار پر ہاتھ رکھو گے تو وہ چنگا ہو جائے گا۔اب گستاخی معاف اگر آپ بچے ایماندار ہونے کا دعوی کرتے ہیں تو اس وقت تین بیمار آپ ہی کے پیش کردہ موجود ہیں آپ ان پر ہاتھ رکھ دیں اگر وہ چنگے ہو گئے تو ہم قبول کر لیں گے کہ بیشک آپ بچے ایماندار اور نجات یافتہ ہیں ورنہ کوئی قبول کرنے کی راہ نہیں۔کیونکہ حضرت مسیح تو یہ بھی فرماتے ہیں کہ اگر تم میں رائی کے دانہ برابر بھی ایمان ہوتا تو اگر تم پہاڑ کو کہتے کہ یہاں سے چلا جاتو وہ چلا جاتا۔مگر خیر میں اس وقت پہاڑ کی نقل مکانی تو آپ سے نہیں چاہتا کیونکہ کہ بیمار تو آپ نے ہی پیش وہ ہماری اس جگہ سے دور ہیں مین یہ تو بہت اچھی تقریب میں تو آپ کر دیئے۔اب آپ ان پر ہاتھ رکھو اور چنگا کر کے دکھلاو۔ورنہ ایک رائی کے دانہ کے برابر بھی ایمان ہاتھ سے جاتا رہے گا۔مگر آپ پر یہ واضح رہے کہ یہ الزام ہم پر عائد نہیں راہم ہوسکتا کیونکہ اللہ جل شانہ نے قرآن کریم میں ہماری یہ نشانی نہیں رکھی کہ با خصوصیت تمہاری یہی نشانی ہے کہ جب تم بیماروں پر ہاتھ رکھو گے تو اچھے ہو جائیں گے۔ہاں یہ فرمایا ہے کہ میں اپنی رضا اور مرضی کے موافق تمہاری دعائیں قبول کروں گار اور کم سے کم یہ کہ اگر ایک دعا قبول کرنے کے لائق نہ ہو اور مصلحت انہی کے مخالف ہو تو اس میں اطلاع دی جائے گی۔یہ کہیں نہیں فرمایا کہ تم کو اقتدار دیا جائے گا کہ تم اقتداری طور پر جو چاہو وہی کر گزرو گے۔مگر حضرت مسیح کا تو یہ حکم معلوم ہوتا ہے کہ وہ بیماروں وغیرہ کے چنگا کرنے میں اپنے تابعین کو اختیار بخشتے ہیں جیسا کہ متی ، اباب امیں لکھا ہے۔پھر اس نے بارہ شاگردوں کو پاس بلا کے انہیں قدرت بخشی کہ ناپاک روحوں کو نکالیں اور ہر