مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 191 of 632

مسیحی انفاس — Page 191

191 سویا درکھو کہ خدائی کے دعوی کی حضرت مسیح پر سراسر تہمت ہے۔انہوں نے ہر گز ایسا دعوی نہیں کیا۔جو کچھ انہوں نے اپنی نسبت فرمایا ہے وہ لفظ شفاعت کی حد سے بڑہتے نبیوں کی شفاعت نہیں۔سونبیوں کی شفاعت سے کس کو انکار ہے۔حضرت موسیٰ کی شفاعت سے کئی مرتبہ بنی اسرائیل بھڑکتے ہوئے عذاب سے نجات پاگئے۔اور میں خود اس میں صاحب تجربہ ہوں۔اور میری جماعت کے اکثر معزز خوب جانتے ہیں کہ میری شفاعت سے بعض مصائب اور امراض کے مبتلا اپنے دکھوں سے رہائی پاگئے اور یہ خبریں ان کو پہلے سے دی گئی تھیں۔اور مسیح کا اپنی امت کی نجات کے لئے مصلوب ہونا اور امت کا گناہ ان پر ڈالے جانا ایک ایسا مہمل عقیدہ ہے جو عقل سے ہزاروں کوس دور ہے خدا کی صفات عدل اور انصاف سے یہ بعید ہے کہ گناہ کوئی کرے اور سزا کسی دوسرے کو دی جائے۔غرض یہ عقیدہ غلطیوں کا ایک مجموعہ ہے۔خدائے واحد لاشریک کو چھوڑنا اور مخلوق کی پرستش کرنا عقلمندوں کا کام نہیں ہے۔اور تین مستقل اور کامل اقنوم قرار دینا جو سب جلال اور قوت میں برابر ہیں اور پھر ان تینوں کی ترکیب سے ایک کامل خدا بنانا یہ ایک ایسی منطق ہے جو دنیا میں مسیحیوں کے ساتھ ہی خاص ہے۔پھر جائے افسوس تو یہ ہے کہ جس غرض سے یہ نیا منصوبہ بنایا گیا تھا یعنی گناہ سے نجات پانا اور دنیا کی گندی زندگی سے رہائی حاصل کرنا وہ غرض بھی تو حاصل نہیں ہوئی۔بلکہ کفارہ سے پہلے جیسے حواریوں کی صاف حالت تھی اور وہ دنیا اور دنیا کے درہم و دینار سے کچھ غرض نہ رکھتے تھے اور دنیا کے گندوں میں پھنسے ہوئے نہ تھے۔اور ان کی کوشش دنیا کے کمانے کے لئے نہیں تھی۔اس قسم کے دل بعد کے لوگوں کے کفارہ کے بعد کہاں رہے۔خاص کر اس زمانہ میں جس قدر کفارہ اور خون مسیح پر زور دیا جاتا ہے۔اسی قدر عیسائیوں میں دنیا کی گرفتاری بڑھتی جاتی ہے اور اکثر ان کے مخمور کی طرح سراسر دن رات دنیا کے شغل میں لگے رہتے ہیں۔اور اس جگہ دوسرے گناہوں کا ذکر کرنا جو یورپ میں پھیل رہے ہیں خاص کر شراب خواری اور بد کاری اس ذکر کی کچھ حاجت نہیں۔لیکچر سیالکوٹ۔روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۲۳۵ تا ۲۳۷ اب میں ڈپٹی عبداللہ آتھم صاحب سے بادب دریافت کرتا ہوں کہ اگر عیسائی مذہب میں طریق نجات کا کوئی لکھا ہے اور وہ آپ کی نظر میں صحیح اور درست ہے اور اس ۱۵۸