مسیحی انفاس — Page 182
المعذورين۔وزعموا أن الله تعالى لا يغفر أحدا إلا بعد إيمانه بالمسيح، وزعموا أن أبواب النجاة مغلقة لغيره، ولا سبيل إلى المغفرة بمجرد الأعمال، وأن الله عادل، والعدل يقتضي أن يعذب من كان مذنبا وكان من المجرمين۔فلما حصحص اليأس من أن تطهر الناس بأعمالهم أرسل الله ابنه الطاهر ليَزَرَ وِزْرَا الناس على عنقه، ثم يصلب وينجي الناس من أوزارهم۔فجاء الابن وقتل ونجا النصارى، فدخلوا في حدائق النجاة فرحين۔هذه عقيدتهم، ولكن من نقدها بعين المعقول ، ووضعها على معيار التحقيقات ، سلكها مسلك الهذيانات وإن تعجب فما تجد أعجب من قولهم هذا۔لا يعلمون أن العدل أهم وأوجب من الرحم ، فمن ترك المذنب، وأخذ المعصوم ففعل فعلاً ما بقي منه عدل ولا رحم۔وما يفعل مثل ذلك إلا الذي هو أضل من المجانين۔ثم إذا كانت المؤاخذات مشروطة بوعد الله تعالى ووعيده فكيف يجوز تعذيب أحد قبل إشاعة قانون الأحكام وتشييده ، وكيف يجوز أخذ الأولين والآخرين عند صدور معصية ما سبقها وعيد عند ارتكابها وما كان أحد عليها من سے ہو اور وہ گمان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کسی کو مسیح پر ایمان لائے بغیر معاف نہیں کرے گا۔نیز وہ گمان کرتے ہیں کہ ایسے شخص کے سوا ہر ایک کے لئے نجات کے دروازے بند ہیں اور محض اعمال سے نجات نہیں ہوتی۔اور اللہ عادل ہے اور عدل کا تقاضہ تھا کہ وہ ہر گناہگار اور مجرم کو سزا دے۔اور جب اس بات سے نامیدی ہو گئی کہ لوگ خود پاک ہو سکیں تو خدا نے اپنے پاک بیٹے کو بھیجا تاوہ لوگوں کے بوجھ اپنی گردن پر اٹھائے پھر صلیب پر مرے اور لوگوں کو ان کے بوجھوں سے نجات دلائے۔چنانچہ بیٹا آیا اور مارا گیا اور نصاری کو نجات دلا گیا۔جس پر وہ نجات کے باغات میں خوشی خوشی داخل ہوئے۔یہ ان کا عقیدہ ہے مگر جو اس کو عقل کی رو سے دیکھے گا اور تحقیق کے معیار پر پر کھے گا تو اسے بیہودہ قرار دے گا۔اگر تو تعجب کرتا ہے تو ان کے اس قول سے زیادہ تعجب انگیز بات تجھے نہیں ملے گی کہ عدل رحم سے زیادہ اہم اور ضروری ہے۔پس کوئی جو گنہگار کو چھوڑ کر معصوم کو پکڑلے تو وہ ایسا کام کرتا ہے کہ جس سے نہ عدل باقی رہتا ہے نہ رحم۔اور ایسا کام اور کوئی نہیں کرتا سوائے اس کے کہ جو پاگلوں سے بھی زیادہ گمراہ ہو پھر اگر سزا دینا خدا تعالیٰ کے وعدہ اور وعید سے مشروط ہے تو پھر کیونکر جائز ہے کہ کسی کو قوانین اور احکام کی اشاعت اور قیام سے قبل ہی سزا دے دی جائے اور یہ کیسے جائز ہے کہ اولین و آخرین کو کسی ایسے گناہ پر پکڑا lar