مسیحی انفاس — Page 180
۱۸۰ جسکا کوئی دوسرا عاصم ہے۔خدا کا نام عاصم ہے اس لئے جب شفاعت کے لئے ابنیت کی ضروت ہے اور اس کے لئے بھی مصلوبیت کی لعنت ضروری ہے تو یہ سارا تانا بانا ہی بنائے فاسد بر فاسد کا مصداق ہے۔حقیقی اور سچی بات یہ ہے جو میں نے پہلے بھی بیان کی تھی کہ شفیع کے لئے ضرورت ہے کہ اول خدا تعالیٰ سے تعلق کامل ہو۔تاکہ وہ خدا سے فیض کو حاصل کرے اور پھر مخلوق سے شدید تعلق ہو تاکہ وہ فیض اور خیر جو وہ خدا سے حاصل کرتا ہے مخلوق کو پہنچا دے۔جب تک یہ دونوں تعلق شدید نہ ہوں شفیع نہیں ہو سکتا۔پھر اسی مسئلہ پر تیسری بحث قابل غور یہ ہے کہ جب تک نمونے نہ دیکھے جائیں کوئی مفید نتیجہ نہیں نکل سکتا۔اور ساری بخشیں فرضی ہیں۔مسیح کے نمونہ کو دیکھ لو کہ چند حواریوں کو بھی درست نہ کر سکے۔ہمیشہ ان کو سست اعتقاد کہتے رہے بلکہ بعض کو شیطان بھی کہا اور انجیل کی رو سے کوئی نمونہ کامل ہونا ثابت نہیں ہوتا۔بالمقابل ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کامل نمونہ ہیں کہ کیسے روحانی اور جسمانی طور پر انہوں نے عذاب الیم سے چھوڑا یا اور گناہ کی زندگی سے ان کو نکلا کہ عالم ہی پلٹ دیا۔ایسا ہی حضرت موسی کی شفاعت سے بھی فائدہ پہنچا عیسائی جو مسیح کو متیل موسیٰ قرار دیتے ہیں تو یہ ثابت نہیں کر سکتے کہ موسیٰ کی طرح انہوں نے گناہ سے قوم کو بچایا ہو۔بلکہ ہم دیکھتے ہیں کہ مسیح کے بعد قوم کی حالت بہت ہی بگڑ گئی۔اور اب بھی اگر کسی کو شک ہو تو لنڈن یا یورپ کے دوسرے شہروں میں جاکر دیکھ لے کہ آیا گناہ سے چھڑا دیا ہے یا پھنسادیا ہے اور یوں کہنے کو تو ایک چوہڑا بھی کہ سکتا ہے کہ بالمیک نے چھوڑایا مگریہ نے دعوے ہی دعوے ہیں جن کے ساتھ کوئی واضح ثبوت نہیں ہے۔پس عیسائیوں کا یہ کہنا کہ مسیح چھوڑانے کے لئے آیا تھا۔ایک خیالی بات ہے جبکہ ہم دیکھتے ہیں کہ ان کے بعد قوم کی حالت بہت بگڑ گئی اور روحانیت سے بالکل دور جا پڑی۔ہاں تچا شفیع اور کامل شفیع آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔جنہوں نے قوم کو بت پرستی اور ہر قسم کے فسق و فجور کی گندگیوں اور ناپاکیوں سے نکال کر اعلیٰ درجہ کی قوم بنا دیا۔ملفوظات جلد ۳ صفحه ۲۱۶٬۲۱۵