مسیحی انفاس — Page 166
144 ہے کہ نبی پر لعنت بھیجنا سخت گناہ ہے۔اور یورپ میں جو آج کل شراب خواری اور زنا کاری کا طوفان برپا ہے اس کے لکھنے کی حاجت نہیں۔ہم اپنے کسی پہلے پرچہ میں بعض بزرگ پادری صاحبوں کی زنا کاری کا ذکر یورپ کے اخبارات کے حوالہ سے کر چکے ہیں۔ان تمام واقعات سے بکمال صفائی ثابت ہوتا ہے کہ یہ لعنتی قربانی گناہ سے روک نہیں سکی۔اب دوسراشق یہ ہے کہ اگر گناہ رُک نہیں سکتے تو کیا اس لعنتی قربانی سے ہمیشہ گناہ بخشے جاتے ہیں۔گویا یہ ایک ایسا نسخہ ہے کہ ایک طرف ایک بد معاش ناحق کا خون اگر کنارک نہیں سکتے کر کے یا چوری کر کے یا جھوٹی گواہی سے کسی کے مال یا جان یا آبرو کو نقصان پہنچا کر اور یا تو کیا اس معنی قربانی کسی کے مال کو تعین کے طور پر دیا کر اور پھر اس لعنتی قربانی پر ایمان لا کر خدا کے بندوں جاتے ہیں ؟ کے حقوق کو ہضم کر سکتا ہے۔اور ایسا ہی زنا کاری کی نا پاک حالت میں ہمیشہ رہ کر صرف ایسا ہی لعنتی قربانی کا اقرار کر کے خدا تعالیٰ کے قہری مواخذہ سے بچ سکتا ہے۔پس صاف ظاہر ہے کہ ایسا ہر گز نہیں۔بلکہ ارتکاب جرائم کر کے پھر اس لعنتی قربانی کی پناہ میں جانا بد معاشی کا طریق ہے۔اور معلوم ہوتا ہے کہ پولوس کے دل کو بھی یہ دھڑ کا شروع ہو گیا تھا کہ یہ پیسوا دویده مصلوب اصول صحیح نہیں ہے اصول صحیح نہیں ہے اسی لئے وہ کہتا ہے کہ ” یسوع کی قربانی پہل گناہ کے لئے ہے اور نہیں ہو سکتا۔یسوع دوبارہ مصلوب نہیں ہو سکتا " لیکن اس قول سے وہ بڑی مشکلات میں پھنس گیا ہے۔کیونکہ اگر یہی صحیح ہے کہ یسوع کی لعنتی قربانی پہلے گناہ کے لئے ہے تو مثلاً داؤد نبی نعوذ باللہ ہمیشہ کے جہنم کے لائق ٹھرے گا۔کیونکہ اس نے اوریا کی جورو سے بقول عیسائیوں کے زنا کر کے پھر اس عورت کو بغیر خدا کی اجازت کے تمام عمر اپنے گھر میں رکھا۔اور وہی مریم کے سلسلہ اقمات میں۔دوباره ہے۔علاوہ اس کے داؤد نے سو تک بیوی بھی کی جن کا کرنا بموجب اقرار عیسائیوں کے اس کو رواہ نہیں تھا۔پس یہ گناہ اس کا پہلا گناہ نہ رہا بلکہ بار بار واقع ہو تا رہا۔اور ہر ایک دن نئے سرے اس کا اعادہ ہو تا تھا۔پھر جبکہ لعنتی قربانی گناہ سے روک نہیں سکتی تو بے شک عام عیسائیوں سے بھی گناہ ہوتے ہوں گے جیسا کہ اب بھی ہو رہے ہیں پس بموجب اصول پولوس کے دوسرا گناہ ان کا قابل معافی نہیں اور ہمیشہ کا جہنم اس کی سزا ہے۔اس صورت میں ایک بھی عیسائی دائمی جہنم سے نجات پانیوالا ثابت نہیں ہوتا مثلاً میاں سراج الدین دور نہ جائیں اپنے حالات ہی دیکھیں کہ پہلے انہوں نے مریم کے