مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 152 of 632

مسیحی انفاس — Page 152

۱۵۲ آدم سے لے کر اخیر تک تمام مقدس نبیوں کو پاپی اور بد کار نہ بنائیں۔(۲) دوسری صورت اس قابل رحم بیٹے کے مصلوب ہونے کی یہ ہے کہ اس سولی ملنے کی یہ علت غائی قرار دی جائے۔کہ اس کی سولی پر ایمان لانے والے ہر یک قسم کفارہ کسی کو نفسانی کے گناہ اور بدکاریوں سے بچ جائیں گے اور ان کے نفسانی جذبات ظہور میں نہ آنے پائیں جذبات سے بچا نہ گے۔مگر افسوس کہ جیسا کہ پہلی صورت خلاف تہذیب اور بدیہی البطلان ثابت ہوئی تھی ایسے ہی یہ صورت بھی کھلے کھلے طور پر باطل ہی ثابت ہوئی ہے۔کیونکہ اگر فرض کیا جائے۔کہ یسوع کا کفارہ ماننے میں ایک ایسی خاصیت ہے کہ اس پر سچا ایمان لانے والا فرشته سیرت بن جاتا ہے اور پھر بعد ازاں اس کے دل میں گناہ کا خیال ہی نہیں آتا۔تو تمام گذشتہ نبیوں کی نسبت کہنا پڑے گا کہ وہ یسوع کی سولی اور کفارہ پر ایمان نہیں لائے تھے۔کیونکہ انہوں نے تو بقول عیسائیاں بدکاریوں میں حد ہی کر دی۔سکا۔پہنچا۔تو اس سے صاف طور پر ثابت ہو گیا کہ یہ جھوٹا کفارہ کسی کو نفسانی جذبات سے بچا نہیں می کی ذات کو بھی کنارہ سکتا۔اور خود مسیح کو بھی بچانہ سکا۔دیکھو وہ کیسے شیطان کے پیچھے پیچھے چلا گیا حلانکہ اس سے کوئی فائدہ نہ کو جانا مناسب نہ تھا اور غالبا یہی حرکت تھی جس کی وجہ سے وہ ایسا نادم ہوا کہ جب ایک شخص نے نیک کہا تو اس نے روکا کہ مجھے کیوں نیک کہتا ہے۔حقیقت میں ایسا شخص جو شیطان کے پیچھے پیچھے چلا گیا۔کیونکر جرات کر سکتا ہے کہ اپنے تئیں نیک ہے۔یہ بات یقینی ہے کہ یسوع نے اپنے خیال سے اور بعض اور باتوں کی وجہ سے بھی اپنے تئیں نیک کہلانے سے کنارہ کشی ظاہر کی مگر افسوس کہ اب عیسائیوں نے نہ صرف نیک قرار دیا کہ بلکہ خدا بنا کر رکھا ہے غرض کفارہ مسیح کی ذات کو بھی کچھ فائدہ نہ پہنچا سکا۔اور تکبر اور خود بینی جو تمام بدیوں کی جڑ ہے۔وہ تو یسوع صاحب کے ہی حصہ میں آئی ہوئی معلوم ہوتی ہے کیونکہ اس نے آپ خدا بن کر سب نبیوں کہ رہزن اور بٹ مار اور نا پاک حالت کے آدمی قرار دیا ہے حالانکہ یہ اقرار بھی اس کی کلام سے نکلتا ہے کہ وہ خود بھی نیک نہیں ہے مگر افسوس کہ تکبیر کا سیلاب اس کی تمام حالت کو برباد کر گیا ہے۔کوئی بھلا آدمی گذشتہ بزرگوں کی مذمت نہیں کرتا۔لیکن اس نے پاک نبیوں کو رہزنوں اور بٹ ماروں کے نام سے موسوم کیا ہے۔اس کی زبان پر دوسروں کے لئے ہر وقت بے ایمان حرام کار کا لفظ چڑھا ہوا ہے۔کسی کی نسبت ادب کا لفظ استعمال نہیں کیا۔کیوں نہ ہو خدا کا فرزند جو حواریوں پر کیا الر ہوا ہوا۔اور پھر جب دیکھتے ہیں کہ یسوع کے کفارہ نے حواریوں کے دلوں پر کیا اثر کیا۔کیا وہ