مسیحی انفاس — Page xv
b یورشوں میں گھر چکا تھا اور مسلمان جو حافظ حقیقی کی طرف سے اسباب و وسائط میں حفاظت کا واسطہ ہو کر اس کی حفاظت پر مامور تھے اپنے قصوروں کی پاداش میں پڑے سسک رہے تھے اور اسلام کے لئے کچھ نہ کرتے تھے نہ کر سکتے تھے ۔ ایک طرف حملوں کی امتداد کی یہ حالت تھی کہ ساری مسیحی دنیا اسلام کی شمع عرفانی کو سر راہِ منزل مزاحمت سمجھ کے مٹا دینا چاہتی تھی اور عقل و دولت کی زبر دست طاقتیں اس حملہ آور کی پشت گری کے لئے ٹوٹی پڑتی تھیں اور دوسری طرف ضعف مدافعت کا یہ عالم تھا کہ توپوں کے مقابل پر تیر بھی نہ تھے اور حملہ اور مدافعت کا قطعی وجود ہی نہ تھا کہ مسلمانوں کی طرف سے وہ مدافعت شروع ہوئی جس کا ایک حصہ مرزا صاحب کو حاصل ہوا ۔ اس مدافعت نے نہ صرف عیسائیت کے اس ابتدائی اثر کے پر نچے اڑائے جو سلطنت کے سایہ میں ہونے کی وجہ سے حقیقت میں اس کی جان تھا اور ہزاروں لاکھوں مسلمان اس کے اس زیادہ خطر ناک اور مستحق کامیابی کامیابی حم حملہ کی زد سے بچ گئے بلکہ خود عیسائیت کا دھواں طلسم ہو کر اڑنے لگا۔ غرض مرزا صاحب کی یہ خدمت آنیوالی نسلوں کو گر انبار احسان رکھے گی کہ انہوں نے قلمی جہاد کرنے والوں کی پہلی صف میں شامل ہو کر اسلام کی طرف سے فرض مدافعت ادا کیا اور ایسا لٹریچر یاد گار چھوڑا جو اس وقت تک کہ مسلمانوں کی رگوں میں زندہ خون رہے اور حمایت اسلام کا جذبہ ان کے شعار قومی کا عنوان نظر آئے قائم رہے گا۔ " اخبار ” وکیل " امرتسر ۔ مئی ۱۹۰۸۔ بحوالہ بدر قادیان ۱۸ جون ۹۱۰۸ بر صغیر کے ایک اور نامور ادیب اور محقق مرزا حیرت دہلوی نے اخبار ”کر زن گزٹ " یکم جون ۱۹۰۸ء میں لکھا۔ " مرحوم کی وہ اعلی خدمات جو اس نے آریوں اور عیسائیوں کے مقابلہ میں اسلام کی کی ہیں وہ واقعی بہت ہی تعریف کی مستحق ہیں۔ اس نے مناظرہ کا بالکل رنگ ہی بدل دیا اور جدید لٹریچر کی بنیاد ہندوستان میں قائم کر دی۔ نہ بحیثیت ایک مسلمان ہونے کے بلکہ ایک محقق ہونے کے ہم نہ اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ کسی بڑے سے بڑے آریہ اور بڑے سے بڑے پادری کو یہ مجال نہ تھی کہ وہ مرحوم کے مقابلہ میں زبان کھول سکتا۔ جو بے نظیر کتابیں آریوں اور