مسیحی انفاس — Page 124
نہ کبھی جسم الگ ہو گا۔تو پھر یہ تو سختمنیں ہوئی نہ کہ تثلیت۔اب ظاہر ہے کہ واضعان تثلیث سے یہ ایک بڑی ہی غلطی ہوئی ہے۔جو انہوں نے سخھینس کو تثلیث سمجھ لیا۔مگر اب بھی یہ غلطی درست ہو سکتی ہے۔اور جیسا کہ گذشتہ دنوں میں تثلیث کے لفظ کی نسبت ثالوث تجویز کیا گیا تھا۔اب بجائے ثالوث کے تخمیس تجویز ہو سکتی ہے۔غلطی کی اصلاح ضروری ہے۔مگر افسوس کہ اس پانچ پہلو والے خدا کی کچھ نہ کچھ مرمت ہی ہوتی رہتی ہے۔k نسیم دعوت۔روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحہ ۳۷۶ تا ۳۷۸ مسٹر عبد اللہ آتھم صاحب فرماتے ہیں۔”جو ہم جسمانی چیز کو جو مظہر اللہ تھی اللہ نہیں مانتے۔اور ہم نے ابن اللہ کو جسم نہیں مانا۔ہم تو اللہ کو روح جانتے ہیں۔صاحب موصوف کا یہ بیان بہت پیچیدہ اور دھوکہ دینے والا ہے۔صاحب موصوف کو صاف لفظوں میں کہنا چاہئے تھا کہ ہم حضرت عیسی کو خدا جانتے ہیں اور ابن اللہ مانتے ہیں۔کیونکہ یہ بات تو ہر ایک شخص سمجھتا اور جانتا ہے کہ جسم کو ارواح کے ساتھ ایسا ضروری تلازم نہیں ہے کہ تا جسم کو حصہ دار کسی شخص کا ٹھہرایا جائے۔مثلاً انسان کو جو ہم انسان جانتے ہیں تو کیا بوجہ اس کے ایک خاص جسم کے جو اس کو حاصل ہے انسان سمجھا جاتا ہے۔ظاہر ہے کہ یہ خیال تو بہ بداہت باطل کیونکہ جسم ہمیشہ معرض تحلیل میں پڑا ہوا ہے۔چند برس کے بعد گویا پہلا جسم دور کوئی ہو کر ایک نیا جسم آ جاتا ہے۔اس صورت میں حضرت مسیح کی کیا خصوصیت ہے۔انسان بھی باعتبار جسم کے انسان نہیں ہے بلکہ باعتبار روح کے انسان کہلاتا ہے۔اگر جسم کی شرط ضروری ہوتی تو چاہئے تھا کہ مثلاً زید جو ایک انسان ہے ساٹھ برس کی عمر پانے کے بعد زید نہ رہتا بلکہ کچھ اور بن جاتا۔کیونکہ ساٹھ برس کے عرصہ میں اس نے کئی جسم بدلے۔یہی حال حضرت مسیح کا ہے۔جو جسم مبارک ان کو پہلے ملا تھا جس کے ساتھ انہوں نے تولد پایا تھا۔وہ تو نہ کفارہ ہو سکا اور نہ کسی کام آیا۔بلکہ قریباً تیس برس کے ہو کر انہوں نے ایک اور جسم پایا اور اسی جسم کی نسبت خیال کیا گیا کہ گویاوہ صلیب پر چڑھایا گیا اور پھر ہمیشہ کے لئے خدا تعالیٰ کے داہنے ہاتھ روح کے ساتھ شامل ہو کر بیٹھا ہے۔اب جبکہ صاف اور صریح طور پر ثابت ہے کہ جسم کو روح کے صفات اور ۱۲۴