مسیحی انفاس — Page 123
۱۲۳ کٹانے کی وجہ سے کم ہوتا رہا۔کیا وہ بھی کبھی اس جسم کے ساتھ شامل کیا جائے گا۔یا ہمیشہ کے لئے اس کو داغ جدائی نصیب ہوا۔ہر ایک عقلمند کو معلوم ہے کہ یہ علم طبعی کا مسلم اور مقبول اور تجربہ کردہ مسئلہ ہے کہ تین برس تک پہلاجسم تحلیل پا کر نیا جسم اس کی جگہ آجاتا ہے۔اور پہلے ذرات الگ ہو جاتے ہیں۔پس اس حساب سے تینتیس برس کے عرصہ میں حضرت مسیح کے گیارہ جسم تحلیل پائے ہوں گے اور گیارہ نئے جسم آئے ہوں گے۔اب طبعا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ گیارہ مفقود شده جسم پھر حضرت مسیح کے موجودہ جسم کے ساتھ شامل ہو جائیں گے یا نہیں۔اور اگر نہیں شامل ہوں گے تو کیا بوجہ کسی گناہ کے وہ علیحدہ رکھنے کے لائق تھے یا کسی اور وجہ سے علیحدہ کئے گئے۔اور اس ترجیح بلا مرجح کا کیا سبب ہے۔اور کیوں جائز نہیں کہ اس موجودہ جسم کو دور کر کے وہی پہلے جسم حضرت مسیح کو دیئے جائیں۔اور کیا وجہ کہ جب کہ گیارہ دفعہ اس بات کا تجربہ ہوچکا ہے کہ حضرت مسیح تمام انسانوں کی طرح تین برس کے بعد نیا جسم پاتے رہے ہیں اور تینتیس برس تک گیارہ نئے جسم پاچکے ہیں۔تو پھر کیوں اب باوجود دو ہزار برس گذرنے کے وہی پرانا جسم ان کے ساتھ لازم غیر منفک رہا۔اگر اس جسم کے غیر فانی بننے کی وجہ ان کی خدائی ہے تو ان پہلے دنوں میں بھی تو خدائی موجود تھی۔جبکہ ہر ایک تین برس کے بعد پہلا چولہ جسم کا وہ اتارتے رہے ہیں۔اور وہ جسم جو خدائی کا ہمسایہ تھا۔خاک و غبار میں ملتا رہا۔تو کیوں یہ موجودہ جسم بھی ان سے الگ نہیں ہوتا۔پھر یہ بھی ذرا سوچو که انسان کے جسم کے پہلے ذرات اس سے الگ ہو جاتا تو کوئی غیر معمولی بات نہیں۔بلکہ رحم سے نکلتے ہی ایک حصہ اس کے جسم کے زواید کا الگ کرنا پڑتا ہے اور ناخن اور بال ہمیشہ کٹانے پڑتے ہیں۔اور بسا اوقات باعث بیماری بہت دبلا ہو جاتا ہے۔اور پھر کھانے پینے سے نیا جسم آ جاتا ہے۔مگر خدا کے گیارہ جسم اس سے الگ ہو جائیں۔اس میں بیشک خدا کی بہتک ہے ہاں جیسا کہ چاروں روحوں کے عقیدہ میں ایک راز تسلیم کیا گیا ہے۔اگر اس جگہ بھی یہی جواب دیا جائے کہ اس میں بھی کوئی راز ہے۔تو پھر بحث کو ختم کرنا پڑتا ہے۔مگر بار بار راز کا بہانہ پیش کیے بنا ایک بناوٹ اور کمزوری کی نشانی ہے۔پھر دوسرا تعجب یہ ہے کہ اس عمیس کا نام تثلیث کیوں رکھا گیا ہے جبکہ بموجب عیسائی عقیدہ کے چاروں رو میں میچ کے جسم میں ابدی اور غیر فانی ہیں اور ہمیشہ رہیں گی۔اور انسانی روح بھی باعث غیر فانی ہونے کے اس مجموعہ سے کبھی الگ نہیں ہوگی اور