مسیحی انفاس — Page 107
1•2 اقنوم ثانی کا مسیح کی انسانی روح سے ایسا اختلاط ہو گیا تھا کہ در حقیقت وہ دونوں ایک ہی چیز ہو گئے تھے اس لئے مسیح نے اقنوم ثانی کی وجہ سے جو اس کی ذات کا عین ہو گیا تھا خدائی کا جب قوم معانی اس کے وجود کائین ہو گیا اور دعوی کر دیا تھا تو اس تقریر کا مل بھی یہی ہوا کہ بموجب زعم نصاری کے ضرور مسیح نے قوم ملی خدا ہے تو یہ خدائی کا دعوی کیا کیونکہ جب اقنوم ثانی اس کے وجود کا مین ہو گیا اور اقنوم ثانی خدا ہے تو کیا خدا بن گیا۔اس سے یہی نتیجہ نکلا کہ مسیح خدا بن گیا۔سو یہ وہی ضلالت کی راہ ہے جس سے پہلے اور پچھلے عیسائی ہلاک ہو گئے اور قرآن نے درست فرمایا کہ یہ بندہ پرست ہیں۔انوار الاسلام۔روحانی خزائن جلد 9 صفحہ ۹۹۹۸۔حاشیہ ۹۲ جواب دو قسم کے ہوتے ہیں۔ایک تحقیقی، دوسرے الزامی۔اللہ تعالیٰ نے بھی بعض جگہ الزامی جوابوں سے کام لیا ہے۔اس میں معترض کو اپنے مذہب کی کمزوری معلوم ہوتی ہے۔چنانچہ جب عیسائیوں نے کہا کہ عیسی خدا کا بیٹا ہے اور دلیل یہ کہ حضرت آدم کو بطریق اول خدا تعالی کا بیٹا ہونا ہر کنواری کے پیٹ سے پیدا ہوا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ات مثل عیسی عند چاہئے۔الله كمثل آدم یعنی اگر یہی اس کے بیٹا ہونے کا ثبوت ہے تو آدم بطریق اول بیٹا ہونا مریم چاہئے۔لملفوظات۔جلد ۱۰ صفحہ ۳۶۵ ثم بعد ذلك نرى ان آدم كان اول ابناء الله في نوع الانسان، وقد اقرت اناجيل پھر بعد اس کے ہم دیکھتے ہیں کہ پہلا بیٹا تو نوع انسان میں سے آدم ہی تھا۔چنانچہ الجملہ اس بات کا اقرار کرتی ہیں النصارى بهذا البيان ومن المعلوم ان الفضل للمتقدم لا للذي جاء بعده اور یہ معلوم ہے کہ بزرگی پہلے ہی کو ہوتی ہے۔اور وہ تو بزرگ نہیں کہلاتا جو پیچھے سے آوے كالمضاهين۔وقد خلق الله آدم بيده وعلى صورته ونفخ فيه روحه بكمال محبته ، اور پہلے کی ریس سے کوئی بات منہ پر لاوے اور خدا نے تو آدم کو اپنے ہاتھ سے اور اپنی صورت پر پیدا کیا تھا ور کمل واما المسيح فما كان لبنة أول الاساس بل جاء في أخريات الناس، وكان من محبت سے اس میں اپنا روح پھونکا مگر مسیح تو پہلی بنیاد کی اینٹ نہیں تھے بلکہ وہ تو آخری لوگوں میں آیا اور المتأخرين۔۹۳ اناجیل کے لحاظ سے تو خدا کا پہلا بیٹا آدم متاخرین میں سے کہلایا۔