مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 86 of 632

مسیحی انفاس — Page 86

AY 40 نہیں آتی اور کوئی منطق یا فلسفہ ایسا نہیں جو ایسے شخص کو خدائی کے دعوے کی ڈگری دے جس کی ساری رات کی دعا بھی منظور نہ ہو سکی اور جس نے اپنی زندگی کے سلسلہ میں ثابت کر دیا کہ اس کی روح کمزور بھی ہے اور نادان بھی۔پس اگر یسوع اب بھی زندہ خدا ہے اور اپنے پرستاروں کی آواز سنتا ہے تو چاہئے کہ اپنی جماعت کو جو ایک معقول عقیدہ پر بے وجہ زور دے رہی ہے اپنے آسمانی نشانوں کے ذریعہ سے مدد دے۔انسان تسلی پانے کے لئے ہمیشہ آسمانی نشانوں کے مشاہدہ کا محتاج ہے اور ہمیشہ روح اس کی اس بات کی بھوکی اور پیاسی ہے کہ اپنے خدا کو آسمانی نشانوں کے ذریعہ سے دیکھے اور اس طرح پر دہریوں اور طبیعیوں اور ملحدوں کی کشاکش سے نجات پاوے۔سو سچاند ہب خدا کے ڈھونڈنے والوں پر آسمانی نشانوں کا دروازہ ہرگز بند نہیں کرتا۔کتاب البریہ - روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۲۹ تا ۵۳ اب میری طرف دوڑو کہ وقت ہے۔جو شخص اس وقت میری طرف دوڑتا ہے میں اس کو اس سے تشبیہ دیتا ہوں کہ جو عین طوفان کے وقت جہاز پر بیٹھ گیا۔لیکن جو شخص اگر سیح خدا ہیں تو سی مجھے نہیں مانتا میں دیکھ رہا ہوں کہ وہ طوفان میں اپنے تئیں ڈال رہا ہے اور کوئی بچنے کا ایک شہر کو طاعون سے سامان اس کے پاس نہیں۔سچا شفیع میں ہوں جو اس بزرگ شفیع کا سایہ ہوں اور اس کا بیچا کر دکھائیں۔ظل جس کو اس زمانہ کے اندھوں نے قبول نہ کیا اور اس کی بہت ہی تحقیر کی یعنی حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم۔اس لئے خدا نے اس وقت اس گناہ کا ایک ہی لفظ کے ساتھ پادریوں سے بدلہ لے لیا کیونکہ عیسائی مشنریوں نے عیسیٰ بن مریم کو خدا بنایا اور ہمارے سید و مولی حقیقی شفیع کو گالیاں دیں اور بد زبانی کی کتابوں سے زمین کو نجس کر دیا اس لئے اس مسیح کے مقابل پر جس کا نام خدار کھا گیا۔خدا نے اس امت میں سے مسیح موعود بھیجا۔جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے اور اس نے اس دوسرے مسیح کا نام غلام احمد رکھا۔تا یہ اشارہ ہو کہ عیسائیوں کا مسیح کیسا خدا ہے جو احمد کے ادنی غلام سے بھی مقابلہ نہیں کر سکتا یعنی وہ کیسا سیح ہے جو اپنے قرب اور شفاعت کے مرتبہ میں احمد کے غلام سے بھی کمتر ہے۔اے عزیزو! یہ بات غصہ کرنے کی نہیں۔اگر اس احمد کے غلام کو جو مسیح موعود کر کے بھیجا گیا ہے تم اس پہلے مسیح سے بزرگ تر نہیں سمجھتے اور اس کو شفیع اور منجی قرار دیتے ہو تو اب اپنے اس دعوی کا ثبوت دو۔اور جیسا کہ