مسیحی انفاس — Page 85
۸۵ ہے۔لہذا اس کے مقاصد اور مدعا کسی طرح مخفی نہیں رہ سکتے۔برخلاف پیش گوئیوں کے کہ وہ اکثر گوشہ گمنامی میں پڑی رہتی ہیں۔پس اس محکم اصول کے رو سے یہودی لوگ عیسائیوں کے مقابل پر اس بحث میں بالکل بچے ہیں کیونکہ یہودیوں نے تعلیم کو پیش گوئیوں پر مقدم رکھا اور پیش گوئیوں کے وہ معنے گئے جو تعلیم کے مخالف نہ ہوں۔مگر عیسائیوں نے پیش گوئیوں کے وہ معنے کئے ہیں جو تعلیم کے سراسر مخالف ہیں۔ماسوا اس کے یہودیوں کے معنے اس طرح سے بھی مستند ہیں کہ وہ انبیاء علیہم السلام سے سنتے چلے آئے ہیں اور حضرت یحی نبی کا ایک فرقہ جو بلاد شام میں اب تک پایا جاتا ہے وہ بھی عیسائیوں کے اس عقیدہ کے مخالف ہے اور یہودیوں کا موید ہے اور یہ اور دلیل اس بات پر ہے کہ عیسائی غلطی پر ہیں۔غرض منقول کے رو سے عیسائیوں کا عقیدہ نہایت بودا ہے بلکہ قابل شرم ہے۔رہا دوسرا ذریعہ شناخت حق کا جو عقل ہے سو عقل تو عیسائی عقیدہ کو دور سے دھکے دیتی ہے۔عیسائی اس بات کو مانتے ہیں کہ جس جگہ تثلیث کی منادی نہیں پہنچی ایسے لوگوں سے صرف قرآن اور توریت کی توحید کے رو سے مواخذہ ہو گا تنلیت کا مواخذہ نہیں ہو گا۔پس وہ اس بیان سے صاف گواہی دیتے ہیں کہ تثلیث کا عقیدہ عقل کے موافق نہیں کیونکہ اگر عقل کے موافق ہوتا تو جیسا کہ بے خبر لوگوں سے توحید کا مواخذہ ضروری ہے ایسا ہی تشکیت کا مواخذہ بھی ضروری ٹھہرتا۔اب ان دونوں کے بعد تیسرا ذریعہ شناخت حق کا آسمانی نشان ہیں یعنی یہ کہ بچے تذہب کے لئے ضروری ہے کہ اس کا صرف قصوں اور کہانیوں پر سہارا نہ ہو بلکہ ہر ایک زمانہ میں اس کی شناخت کے لئے آسمانی دروازے کھلے رہیں اور آسمانی نشان ظاہر ہوتے رہیں تا معلوم ہو کہ اس زندہ خدا سے اس کا تعلق ہے کہ جو ہمیشہ سچائی کی حمایت کرتا ہے۔سو افسوس کہ عیسائی مذہب میں لامت بھی پائی نہیں جاتی بلکہ بیان کیا جاتا ہے کہ سلسلہ نشانوں اور مجربات کا آگے نہیں بلکہ پیچھے رہ گیا ہے اور بجائے اس کے کہ کوئی موجودہ آسمانی نشان دکھلایا جائے ان باتوں کو پیش کرتے ہیں کہ جو اس زمانہ کی نظر میں صرف قصے اور کہانیاں ہیں۔ظاہر ہے کہ اگر یسوع نے کسی زمانہ میں اپنی خدائی علمیت کرنے کے لئے چند ماہی گیروں کو نشان دکھلائے تھے تو اب اس زمانہ کے تعلیم یافتہ لوگوں کو ان ان پڑھوں کی نسبت نشان دیکھنے کی بہت ضرورت ہے کیونکہ ان بیچاروں کو کسی طرح عاجز انسان کی خدائی سمجھ