حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئیاں — Page 18
32 31 حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے 6 فروری 1898ء کو ایک خواب دیکھا جس کی تفصیل حضور یوں بیان فرماتے ہیں:۔آج جو 6 رفروری 1898 ء روز یک شنبہ ہے میں نے خواب میں دیکھا کہ خدا تعالیٰ کے ملائک (فرشتے) پنجاب کے مختلف مقامات میں سیاہ رنگ کے پودے لگا رہے ہیں۔اور وہ درخت نہایت بدشکل اور سیاہ رنگ اور خوف ناک اور چھوٹے قد کے ہیں۔میں نے بعض لگانے والوں سے پوچھا کہ یہ کیسے درخت ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ طاعون کے درخت ہیں۔جو عنقریب ملک میں پھیلنے والی ہے۔اب یہ وہ زمانہ ہے کہ پنجاب میں کوئی طاعون نہ تھی۔لیکن خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح 6 موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بہت پہلے سے اس کی خبر دے دی اور حضور نے اسے اپنی کتاب ایام الصلح کے صفحہ 161 پر شائع فرما دیا۔اور بچو! اگر تم یہ پیشگوئی دوبارہ پڑھو تو تمہیں یہ بات کتنی صاف نظر آئے گی کہ خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بہت پہلے بتا دیا تھا کہ فرشتے ملک پنجاب میں طاعون کے پودے لگا رہے ہیں۔مگر یہ وہ وقت ہے کہ پنجاب میں طاعون کا نام ونشان نہ تھا۔اور اگر یہ خبر خدا کی طرف سے نہ ہوتی تو خدا تعالیٰ کو کیا ضرورت تھی کہ ایک جھوٹی خبر کو سچی کرنے کے انتظامات کر دیتا، لیکن 1902ء میں یعنی پیشگوئی کے ۴ سال بعد یہ بیماری پنجاب میں خوفناک طریق پر پھوٹی اور اس طرح پھوٹی کہ بعض جگہ ایک ایک گھر میں ایک ہی دن میں تین تین چار چار موتیں ہو گئیں، دفنانے کے لیے لوگ نہیں ملتے تھے۔بعض تو گاؤں کے گاؤں ہی صاف ہو گئے۔غرض عجیب افراتفری کا عالم تھا۔انسانی جان اس قدر سستی ہو گئی تھی کہ کوئی ایک دوسرے کو پوچھنے کا روادار نہ تھا۔ان دنوں حکومت نے لوگوں کو طاعون کا ٹیکہ لگانے کا حکم دیا تا کہ اس وجہ سے جانے بچ سکیں۔یہ دوائی بہت مفید تھی اور حکومت نے بڑی خیر خواہی سے پبلک کے لیے اس کا انتظام کیا تھا۔اب تم نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے اس خوفناک و با اور بیماری کے پھوٹنے کی پہلے ہی اطلاع دی اور عین اس کے مطابق واقعہ بھی ہو گیا۔لیکن اس سے بھی زیادہ حیران کن اور عجیب اور دلچسپ بات سنو۔جب طاعون پھیلی تو ٹیکہ لگوانا ضروری تھا تاکہ لوگ اس بیماری سے محفوظ ہو جائیں۔لیکن اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو خبر دی کہ آپ کو ٹیکہ لگوانے کی ضرورت نہیں۔اور نہ صرف آپ کو بلکہ ان سب لوگوں کے لیے بھی ضروری نہیں جو آپ کے گھر کی چار دیواری میں رہتے ہیں اور چاردیواری کے متعلق آپ نے فرمایا کہ:۔اس سے مراد یہ اینٹوں اور پتھروں کی چار دیواری ہی نہیں بلکہ اس سے مراد وہ سب لوگ ہیں جو بچے طور پر آپ کی جماعت میں شامل ہیں۔اور آپ کی بتائی ہوئی تعلیم پر عمل کرتے ہیں۔اور اس سلسلہ میں آپ نے ایک بڑی مشہور کتاب لکھی جس کا نام ”کشتی نوح“ ہے۔اس کے پہلے صفحے پر آپ لکھتے ہیں کہ :۔دد لیکن ہم بڑے ادب سے اس محسن گورنمنٹ کی خدمت میں عرض کرتے ہیں کہ اگر ہمارے لیے ایک آسمانی روک نہ ہوتی تو سب سے پہلے رعایا میں سے ہم ٹیکہ کراتے اور آسمانی روک یہ ہے کہ خدا نے چاہا ہے کہ اس زمانہ میں انسانوں کے لیے ایک آسمانی رحمت کا نشان دکھاوے۔سواُس نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ تو اور جو شخص تیرے گھر کی چاردیوار کے اندر ہوگا اور وہ جو کامل پیروی اور اطاعت اور بچے تقویٰ سے تجھ میں محو ہو جائے گا وہ سب طاعون سے www۔alislam۔org