حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئیاں

by Other Authors

Page 5 of 27

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئیاں — Page 5

6 5 کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ نے انہیں بے شمار نشان عطا کیے جو سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں کی تعداد تک پہنچتے ہیں اس چھوٹی سی کتاب میں ہم سارے نشان کیسے بیان کر سکتے ہیں اس کے لیے تو بہت بڑی کتاب کی ضرورت ہو گی۔آپ نے تو اپنے ان نشانات اور پیشگوئیوں کو اپنی بڑی بڑی کتابوں میں تفصیل سے لکھا ہے لیکن ہم آپ کے لیے صرف چند پیشگوئیاں اس کتاب میں بیان کریں گے کہ وہ کن حالات میں کی گئیں اور کس طرح پوری ہوئیں؟ اب ہم آپ کو وہ چند پیشگوئیاں سناتے ہیں جن کے بارہ میں خدا نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو قبل از وقت بتایا اور کس طرح وہ بڑی شان و شوکت سے پوری ہوئیں۔☆ یہ بات تو آپ پہلے پڑھ چکے ہیں کہ حضرت صاحب بڑے رئیسوں کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے آپ کے والد کئی گاؤں کے مالک تھے جن کے انتظام وغیرہ کی وجہ سے انہیں دنیا داری میں مصروف رہنا پڑتا تھا۔اور یہ تو ساری دنیا کا قاعدہ ہے کہ اپنی جائیداد کی دیکھ بھال پر انتظام کے لیے بڑا وقت خرچ کرنا پڑتا ہے۔لیکن چونکہ خدا نے حضرت صاحب سے دنیا کی اصلاح کا کام لینا تھا اس لیے دنیا داری کے کاموں کی طرف توجہ نہ تھی۔وہ تو سارا دن اور ساری رات خدا کی عبادت میں مشغول رہتے۔حضرت صاحب کے بڑے بھائی مرزا غلام قادر صاحب جائیداد کے انتظامات میں اپنے باپ کی مدد کرتے۔یہ 1876ء کا واقعہ ہے کہ آپ کے والد بیمار ہوئے لیکن پھر صحت بھی ہو گئی۔معمولی بیماری باقی تھی کہ یکا یک حضور کو الہام ہوا کہ وَ السَّمَاءِ وَالْطَّارِقِ“ اور اس کے یہ معنی ہیں کہ قسم ہے آسمان کی اور قسم ہے اس حادثہ کی جو سورج غروب ہونے کے بعد ظاہر ہوگا اور پھر ساتھ ہی یہ سمجھا دیا گیا کہ یہ تمہارے والد کی وفات کی طرف اشارہ ہے۔گویا یہ خدا کی طرف سے عزا پر سی تھی۔یعنی ایک طرح کا اظہار ہمدردی تھا۔اور آپ سمجھ گئے کہ مجھے یہ میرے والد کی وفات کی خبر دی گئی ہے جو غروب آفتاب کے بعد ہو گی اور پھر حضرت صاحب نے اپنی کتابوں میں قسم کھا کر یہ اعلان کیا ہے کہ ایسا ہی واقعہ ہوا جیسا کہ خدا نے آپ کو اپنے الہام کے ذریعہ بتایا تھا اور سورج ڈوبنے کے بعد آپ کے والد وفات پاگئے۔بچو! یہ بات یاد رکھنا کہ آپ کے والد کا نام مرزا غلام مرتضیٰ تھا اور آپ نے ماہ جون 1876ء میں وفات پائی۔تو دیکھا بچو! حضرت صاحب کو اللہ تعالیٰ نے قبل از وقت خبر دی جو عین وقت پر پوری بھی ہوئی۔www۔alislam۔org