حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئیاں

by Other Authors

Page 7 of 27

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئیاں — Page 7

10 ☆ بچو! اب تم ایک اور عظیم الشان نشان کی تفصیل سنو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دل میں ( دین حق ) کی محبت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔حضور کی خواہش تھی کہ یہ سچا مذہب اور خدا کا دین جلد سے جلد دنیا میں پھیل جائے اور اس مقصد کے حاصل کرنے کے لیے آپ نے ایک نہایت شاندار کتاب لکھی جس کا نام ”براہین احمدیہ تھا۔آپ نے اپنی اس کتاب میں اسلام کی سچائی کے لیے سینکڑوں ثبوت اور دلائل پیش کیے اور پھر یہ بھی کیا کہ دنیا کے تمام مذاہب کو چیلنج دیا کہ جو کوئی اس کتاب کا جواب لکھے گا اسے دس ہزار روپے انعام دیئے جائیں گے۔اس زمانہ کے دس ہزار روپے آج کے دس لاکھ روپے سے بھی زیادہ تھے لیکن نہ کسی عیسائی کو ہمت ہوئی اور نہ کسی اور مذہب والے کو کہ وہ اس کا جواب لکھتا۔اس کتاب سے آپ کا نام سارے ہندوستان میں مشہور ہو گیا۔صوابی ضلع پشاور میں ایک ہندو آریہ پولیس کے محکمہ میں ملازم تھا اس کا نام پنڈت لیکھرام تھا۔یہ شخص اسلام کا سخت دشمن تھا اور بڑا بدزبان تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دے کر بہت خوش ہوتا۔اسلام کا مذاق اڑاتا۔مسلمانوں کے خدا کو مکار کہا کرتا۔شخص 1885ء میں قادیان آیا۔لیکن اسے حضرت صاحب سے ملنے کی جرات نہ ہوئی بس فضول خط و کتابت کے ذریعہ ہی باتیں بناتا رہا۔حضرت صاحب کی بڑی خواہش ہوا کرتی تھی کہ لوگ آپ کے پاس آئیں اور اللہ تعالیٰ کے نشانات دیکھیں کہ کس طرح وہ آپ سے پیار کرتا ہے اور اسلام کی سچائی کے لیے کیسے کیسے نشانات دکھاتا ہے اور لیکھرام بھی اگر حضور کے پاس ٹھہرتا تو نشان دیکھتا مگر اس کا مقصد تو محض مذاق اور ٹھٹھا تھا۔اس لیے وہ چند روز ٹھہر کر واپس چلا گیا اور جاتے ہوئے حضور کو ایک خط لکھا جس کے آخر پر لکھا: ”اچھا آسمانی نشان تو دکھا دیں۔اگر بحث نہیں کرنا چاہتے تو رب العرش خیر الماکرین سے میری نسبت کوئی نشان تو مانگیں۔اب اس فقرہ کو ذرا دوبارہ پڑھیں اور غور سے پڑھیں تو آپ سمجھ جائیں گے کہ یہ شخص کس قدر شوخ شریر اور اسلام کا کس قدر دشمن تھا۔حضرت صاحب نے بھی اس خط کا جواب دیا کہ: ” جناب پنڈت صاحب ! آپ کا خط میں نے پڑھا۔آپ یقیناً سمجھیں کہ ہمیں نہ بحث سے انکار اور نہ نشان دکھانے سے۔مگر آپ سیدھی نیت سے طلب حق نہیں کرتے۔بے جا شرائط زیادہ کر دیتے ہیں۔آپ کی زبان بد زبانی سے رکتی نہیں۔آپ لکھتے ہیں کہ اگر بحث نہیں کرنا چاہتے تو رب العرش خیر الماکرین سے میری نسبت کوئی آسمانی نشان مانگیں۔یہ کس قدر ہنسی ٹھٹھے کے کلے ہیں“۔پھر اس خط کے آخر پر حضرت صاحب نے لکھا کہ: نشان خدا کے پاس ہیں وہ قادر ہے جو آپ کو دکھلا دے“۔اور اس کے بعد 20 فروری 1886 ء تک آسمانی نشان دکھلانے کا وعدہ بھی کر لیا۔لیکن لیکھرام یہ لکھ کر قادیان سے چلا گیا کہ میں آپ کی پیشگوئیوں کو واہیات سمجھتا ہوں اور میرے حق میں جو چاہو شائع کرو۔میری طرف سے اجازت ہے میں ان باتوں سے ڈرنے والا نہیں۔اس پر بھی حضور خاموش رہے۔اور اس کے خلاف کچھ نہ لکھا۔لیکن جب اس کی شوخی اور شرارت حد سے زیادہ ہو گئی تو ۲۰ فروری ۱۸۹۳ء کو حضور نے اس کے متعلق ایک اشتہار شائع کیا اور اس میں اس شریر کے متعلق پیشگوئی درج فرمائی۔اس سے پہلے آپ نے ایک نہایت شاندار کتاب لکھی جس کا نام ” آئینہ کمالات اسلام“ رکھا۔اس میں آپ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں فارسی میں ایک نظم لکھی۔اس کے آخر میں تین چار www۔alislam۔org