مسیح اور مہدیؑ — Page 648
مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں سنن نسائی شریف جلد دوم 648 عکس حوالہ نمبر 226 اہل مشرق اور مہدی کی تائید و نصرت جہاد کی کتاب کے فينتُ كُنتُ أَفْضَلَ الشُّهَدَاءِ وَإِنْ رَجَعْتُ فَانا ابو عنہ (جیسا ) ہوں گا جو کہ عذاب دوزخ سے آزاد اور بری کر دیا گیا هُرَيْرَةَ الْمُحَرَّر حمد ہے۔: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ قَالَ ۳۱۸۰ : رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام حضرت ثوبان رضی اللہ حَدَّنَا أَسَدُ بن ن مُوسَى قَالَ حَدَّنَا بَقِيَّةُ قَالَ حَتى تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد عَنْ أَخِيهِ مُحَمَّدِ ابْنِ الْوَلِيدِ عن قرمایا: میری اُمت میں سے دو طبقے ایسے ہیں جن کو اللہ عز وجل دوزخ لقَمَانَ بْنِ عَامِرٍ عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى بْنِ عَدِي الْبَرَانِي عَن سے آزاد فرما دیں گے ان میں سے ایک طبقہ تو وہ ہے جو کہ ہند میں جہاد قربان مولى رَسُولِ اللهِ قَالَ قَالَ رَسُول اللہ ﷺ کرے گا جبکہ دوسرا طبقہ وہ ہے جو کہ حضرت عیسی بن مریم علیہا السلام عِصَابَتَانِ مِنْ أُمَّتِي أَخْرَزَهُمَا اللَّهُ مِنَ النَّارِ عِصَابَةٌ کے ساتھ ہوگا۔تَغْرُو الْهِنْدَ وَعِصَابَةٌ تَكُونُ مَعَ يَكُونُ مَعَ عِيسَى بْنِ مَرْيَمَ۔۱۲۰۵: باب غَزْوَةُ التُّرْكِ وَالْحَبَةِ باب ترکی اور حبشی لوگوں کے ساتھ جہاد سے متعلق ۳۱۸۱ : أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ قَالَ حَدَّثَنَا ضَمْرَهُ (۳۱۸۱ رسول کریم کے ایک صحابی سے روایت ہے کہ آپ نے خندق عَنْ أَبِي زُرْعَةَ السَّيْبَانِي عَنْ أَبِي سُكَيْنَةَ رَجُلٌ مین کی کھدائی کا حکم فرمایا تو اس وقت (یعنی خندق کھودنے کے وقت) الْمُحَرَّرِينَ عَنْ رَجُلٍ مِّنْ أَصْحَابِ النَّبِي قَالَ لَمَّا ایک بڑا پتھر نکل آیا تو اس کی وجہ سے خندق کے کھودنے میں مشکل پیش اَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَفْرِ الْخَندَقِ آگئی اور لوگوں کو اس کا توڑنا مشکل ہو گیا۔رسول کریم وہ ہتھیار لے عَرَضَتْ لَهُمْ صَخْرَةٌ حَالَت بَيْنَهُم وَبَيْنَ الْحَفْرِ کر کھڑے ہو گئے کہ جس سے پتھر توڑا جاتا ہے اور آپ نے اپنی چادر فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاَخَذَ مبارک خندق کے کنارہ پر رکھی اور یعنی آپ نے آیت کریمہ: تمت المعول وَوَضَعَ رِدَاءَ ، نَاحِيَةَ الْعَندَقِ وَقَالَ: كَلِمَةُ رَبِّكَ صِدقاً تلاوت فرمائی اور آپ نے ہتھیار اٹھا کر مارا اور وَتَمْتُ كَلِمَةُ رَبِّكَ صِدْقًا وعدلا لا مُبَدِّل پھر ٹوٹ کر گر پڑا اور مذکورہ بالا آیت کریمہ کا ترجمہ یہ ہے تیرے وَعَدَلًا يكلِمَاتِهِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ﴾ [الأنعام : ۱۱۱۵ پروردگار کا کلام سچائی اور انصاف میں پورا ہوا اور کوئی اس کی باتوں کو فَنَدَرَ تُلْتُ الْحَجَرِ وَسَلْمَانُ الْفَارِسِيُّ قَائِم يَنظُرُ تبدیل کرنے والا نہیں، اس وقت حضرت سلمان فارسی وہاں کھڑے فَبَرْقَ مَعَ ضَرْبَةِ وَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم تھے اور رسول کریم دیکھ رہے تھے آپ کے مارنے کے وقت ایک بجلی برقَةٌ ثُمَّ ضَرَبَ الثَّانِيَةَ وَقَالَ : وَتَمْتُ كلمة ربك جیسی چمک ہوئی۔پھر دوسری مرتبہ وہ ہی آیت تلاوت فرما کر آپ نے صدقا وعدلا لا مُبْدِلَ لِكَلِمَاتِهِ وَهُوَ السَّمِنع اس ہتھیار سے مارا۔پھر ایسی ہی بجلی جیسی چمک ظاہر ہوئی اور دوسری التعليم فندَرَ العَلْتُ الْآخَرُ فَبَرَقَتْ بَرْقَةٌ قراها تہائی پتھر سے الگ ہو گئی تیسری مرتبہ آیت کریمہ تلاوت فرما کر جب سَلْمَانُ ثُمَّ ضَرَبَ العالية وقال : وتمت كلمه مارا تو تیسرا ٹکڑا بھی گر گیا اور آپ وہاں سے ہٹ گئے آپ وہاں سے ريكَ صِدْقًا وَعَدْلًا لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِهِ وَهُوَ السَّمِيعُ پھر اپنی چادر مبارک لے کر تشریف فرما ہو گئے۔سلمان فارسی نے عرض i