مسیح اور مہدیؑ

by Other Authors

Page 591 of 708

مسیح اور مہدیؑ — Page 591

مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 591 چھوٹے مدعیان نبوت کی پیشگوئی کا پورا ہونا لا نَبِيَّ بَعْدِی کی روایت کے ساتھ یہ استثناء بھی مذکور ہے کہ لَا نَبِيَّ بَعْدِي إِلَّا مَا شَاءَ اللَّهُ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں سوائے اس کے کہ اللہ چاہے۔چنانچہ متقین کو ماننا پڑا کہ اگر یہ حدیث صحیح ہے تو اس سے مراد حضرت عیسی علیہ السلام کے بطور نبی آنے کا استثناء ہو سکتا ہے۔اسی طرح حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا: أَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ وَلَا نَبِيَّ بَعْدِي إِلَّا أَنْ يَشَاءَ اللہ کہ میں خاتم النبیین ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں سوائے اس کے کہ اللہ چاہے۔213 تذكرة الموضوعات صفحه 88 دار احياء التراث (بيروت امت محمدیہ میں آنیوالے عیسیٰ نبی اللہ کو رسول اللہ کا چار مرتبہ نبی قرار دینا صاف ظاہر کرتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صرف امتی نبی کے آنے کا امکان موجود ہے اور حضرت عیسی بن مریم اسرائیلی مسیح ( جو قرآن کریم کے مطابق وفات پاچکے ) ہر گز اس سے مراد نہیں ہو سکتے کیونکہ آیت خاتم النبیین اور حدیث لَا نَبِيَّ بَعْدِئ رسول اللہ کے بعد کسی بھی صاحب شریعت نبی کے آنے میں روک ہیں۔وہ لوگ جو حضرت عیسی نبی اللہ کو قرآن کے برخلاف زندہ خیال کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ان کا نزول مانتے ہیں وہ بالفاظ دیگر حضرت عیسی کو آخری نبی اور خاتم النبیین“ قرار دیتے ہیں۔العیاذ باللہ حضرت بانی جماعت احمدیہ فرماتے ہیں: اگر یہ کہا جائے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تو خاتم النبیین ہیں پھر آپ کے بعد اور نبی کس طرح آ سکتا ہے اس کا جواب یہی ہے کہ بے شک اس طرح سے تو کوئی نبی نیا ہو یا پرانا نہیں آ سکتا جس طرح سے آپ لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آخری زمانہ میں اتارتے ہیں اور پھر اس حالت میں ان کو نبی بھی مانتے ہیں۔بے شک ایسا عقیدہ تو معصیت ہے۔۔۔نبوت کی تمام کھڑکیاں بند کی گئیں مگر ایک کھڑ کی سیرت صدیقی کی کھلی ہے یعنی فنافی الرسول کی۔پس جو شخص اس کھڑکی کی راہ سے خدا کے پاس آتا ہے اس پر ظنی طور پر وہی نبوت کی چادر پہنائی جاتی ہے جو نبوت محمدی کی چادر ہے اس لئے اس کا نبی ہونا 66 غیرت کی جگہ نہیں۔“ ایک غلطی کا ازالہ۔روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 207-208 ایڈیشن 2008)