مسیح اور مہدیؑ — Page 561
مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں تفسیر مطهری 561 عکس حوالہ نمبر: 195 228 ظہور مسیح و مہدی اور غلبہ دین حق جلد چهارم اپنے رسول مکرم ﷺ کو غالب کردے دین کی تمام شاہراہوں پر نا کہ آپ پر دین کا کوئی گوشی مخفی نہ رہ جائے۔الدین پر الف لام جنسی ہے۔بعض دوسرے مفسرین فرماتے ہیں لیظہرہ کیہ ضمیر کا مرجع دین الحق ہے یعنی دین اسلام کو دوسرے تمام ادیان پر غالب کر دے اور انہیں اس کے ساتھ منسوخ کر دے یا یہ معنی کہ دوسرے ادیان کے پیروکاروں پر اسے غالب کرے تا کہ تمام لوگ اس دین کی اطاعت کریں اور اس پر مکمل پیرا ہو جا ئیں۔علامہ بغوی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور النصح اک رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا جب عیسی علیہ السلام کا نزول ہوگا تو سب لوگ اسلام میں داخل ہو جائیں گے۔اس وقت اس علمیہ کا اظہار ہو گا(1)۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ حضور نبی کریم ﷺ سے روایت فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا میسی نمیہ السلام کے زمانہ میں اسلام کے مواد تمام ملل واد یا لن ا ختم ہو جائیں گے۔میں کہتا ہوں ظہور سے مراد دین اسلام کا بقیہ تمام ادیان پر اکثر اوقات میں غلبہ ہے جیسا کہ حضرت مقعد اور رضی اللہ عنہ کی حدیث دلالت کرتی ہے۔فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا کہ سطح زمین پر کوئی مٹی کا گھر دندالیا اون کا خیمہ ایسا نہیں ہوگا جہاں اللہ تعالی عزت والے کو عزت دینے اور ذلت والے کو ذلیل کرنے کے ساتھ کلمہ اسلام کو دال نہیں فرمائے گا۔نہیں جنہیں القد تعالٰی عزت دے گا انہیں کلمہ پڑھنے کا شرف عطا فر مائے گا اور جو کہ نہیں پڑھیں انہیں ذلیل کرے گا حتی کہ وہ کلمہ پڑھنے پر مجبور ہوں گے۔حضرت مقصد اور رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے عرض کی پھر تو دین سارے کا سارا اللہ تعالی کے لئے ہو جائے گا۔اس حدیث کو امام المد رحمتہ اللہ علیہ نے روایت کیا ہے (2)۔میں کہتا ہوں اللہ تعالٰی نے اپنا یہ وعدہ پورا فرما دیا ہے بھی کہ اکثر ممالک میں اور اغلب تو مانوں میں تمام دوسرے مہینوں والے اہل اسلام کے مطیع رہے ہیں اور یہ آیت کر پر ہمیشہ ہمیشہ غلبہ کی حالت کا تقاضا نہیں کرتی۔امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں فرماتی ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے کہ برات اور دن کا سلسلہ ختم نہ ہوگا کہ (ایک وقت ایسا آئے گا) کہلات دمری کی پوجا کی جائے گئی میں نے عرض کی یا رسول اللہ مالو ! میرا خیال تو یہ تھا کہ اللہ تعالی نے جب تھو الذي ارسل رسوله بالهدى ودين الحق المظهر على التوين عليها و توكرة النشر مون کا ارشمار نازل فرما دیا ہے تو معاملہ مکمل ہو چکا ہے۔آپ ﷺ نے فرمایا ایسا ہوگا یعنی قلب اسلام رہے گا) جتنا وقت اللہ تعالی چاہے گا پھر اللہ تعالی ایک پاکیزہ ہوا چلائے گا۔ہیں جس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر ایمان ہو گاوہ فوت ہو جائے اور صرف ایسے لوگ نیچے جا ئیں جن میں کوئی غیر کا عصر نہ ہوگا اور پھر لوگ اپنے آباء کے دین (شرک دکتر) کی طرف لوٹ جائیں گے (3)۔محسن بن الفضل فرماتے ہیں آیت کا معنی یہ ہے کہ برا چین قاطعہ اور پیج قاہرہ کے ذرلیتے تمام پر دین اسلام کو نملبہ دے گا۔بعض علماء فرماتے ہیں ان تمام ادیان پر غالب کرے گا جو نہیں کریم ے کے ارد گرد کے علاقہ میں تھے پس دین اسلام ان پر غالب آجائے گا۔امام شایعی رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں اللہ تعالی نے اپنے رسول کو تمام ادیان پر اس طرح غائب کر دیا ہے کہ ہر شخص پر عیاں ہو چکا ہے کہ آپ ﷺ کا دین کی حق ہے اور جو کچھ اس کے مخالف ہے وہ باطل ہے اور فرماتے اس طرح بھی ملبہ دیا کہ درود مین یعنی اہل کتاب اور امیوں کا دین کفر میں جمع تھے پھر رسول اللہ ہی کے نئے امین کو غلبہ و پاتی کہ انہوں نے اسلام کو بخوشی قبول کر لیا اور اہل کتاب کو تل کر دیا اور قیدی بنالیا حتی کہ بعض ان میں سے بھی اسلام 1 تفسیر بغوی، جلد 3 صفر 68 ( التجارية ) 2 تفسیر بغوی جلد 3 صفح 59 ( التجارية ) 3 صحیح مسلم جلد 9 صفحه 27 ( العالمية )