مسیح اور مہدیؑ — Page 540
مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 540 عکس حوالہ نمبر: 187 مسیح موعود کے حج کی پیشگوئی کا مطلب یح بخاری مانی که میام پاش ها در دور کتاب پر بالالم مریم نهم لها لونين كُنتَ الك الذنيب عدم برابر یہ اسلام سے پھرے ہے مرے تک ) تب بھٹی ہی کہوں گا جو نیک بند وانت عن كل شي سعید الی گول و الغز سید عیسی بن مریم نے کہا میں کوانہ نے سورہ مائدہ میں نقل کیا، پروردگار میں إلى الحكيم قال محمد بن بست لاكين من الي ما جبتک ان میں یا ان کمال دیکھتا رہا جب تو نے مجھ کو اٹھا لیا اس قت سے قال هم السد سدون الدين توبی الکی تعمیان تھا تو سب چیزیں دیکھ رہا ہے اخیر آیت الحکیم تک محد بین مدین الدو عن عمد الى بحر يوسف فریدی نے کہا ابو عبد اللہ ریعنی امام بخاری نے قبیصہ میں حقیہ (اپنے شیخ) سے نقل کیا اس حدیث میں اصحاب (عر کے دو لوگ مراد ہیں کچھ و ابو بکر صدیق کی خلافت میں اسلام سے بھرگئے ہو گر نے ان پر جہاد کیا ابو ا نزول عيسى بن مريم عليه السلام باب حضرت مینی کا آسمان سے اترنا۔الابن يعقوب و ابر ما کم سے افق بی را تویہ نے بیان کیا کہا تم کو یعقوب بن ابلا ہم نے ہم بن راہویہ بن ابراہیم + 3 ہو ا في حرج صالح عن ابن شتاب آن سعید بی خبروہی کیا تم سے میرے باپنے اُنہوں نے صالح بن کیسا ہے انھوں نے المسيب سمع أبا هريرة و قال قال رسول الله بن شہا ہے انہوں نے سعید بن حسین سے انہوں نے ابوہ سر یہ گاہ سے سُنا صلى الله عليه وسلم وانهای نشین بنده تو آنحضرت صلی الہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اس پر دروگر کی میں کے ہاتھ میں وَسَلَّمَ نَفْسِي ان نزل بيكر بن مرید مگنا حد او نیکی میری جان ہے رو زمان تری ہے کہ مریم کے بیٹے (مینی) تم لوگوں میں دکان ليب ويقتل الخبر ويعلم الجديدة و حاکم ہو کر اتریں گے صلیب درسوں کو توڑ پھینک دیں گے شایت يفيكُ المَانُ حَق لا يقبله أحدا حتى تكون کو بائل کریں گے امور کو مار ڈالیں گے جو یہ موقوف کر دیں گے زیائی سجدة القاسية خيرا من الله نا کر جانا ہو یا قتل ہوا اس وقت اور پیر بہت تھیں پڑے گا کوئی نہ سنے گا ایک مجرد تم يقول أبو هريرة و وافردا دنیا و ما فیہا سے بہتر ہو گا ابو بر تیرا یہ حدیث روایت کر کے کہتے تھے ان شدم و إن من أهل الكتاب اگر تم چاہو تو سورہ نساء کی یہ آیت پڑھو تو اس حدیث کی تایید کرتی تم الالمؤمنن به قَبلَ مَوْتِهِ وَيَومَ ہے، کوئی کتاب الا ایسا نہ ہو گا جو اپنے مرنے سے پہلے بیٹی پر ایمان لئے القيامة يكون عَلَيْهِمْ شَهِيدًا اور قیامت کے دن عینی اس پر گواہی نہ دیں لے شد اول به حدفنا ابن بكير جدا لنا اليت من ہم سے کیا بن بکیر نے بیان کیا کیا ہم سے لیث نے انہوں نے یونس سے ان گویا اس آیت کا مطلب یہ ہوا کہ ریاست کے غریب جو ہود اور نصاری ہوں گے اور عیسی علیہ السلام ان کے زمانہ میں اتریں گے تو وہ اپنی موت سے مستون پر ایمان تو نہیں گئے ابن عباس سے بھی ایسا میں منقول ہے لیکن ابن جریر نے ابن عباس سے یہ سند صحیح روایت کیا کہ یہ آیت عام ہے ہر ایک اہل کتاب کویر شماعی ہے خواہ وہ کسی زمانہ میں ہوں کیا معنی مرتے وقت ان کو بہلایا جاتا ہے کہ حضرت معینی اللہ کے بند اور اس کے رسوں تھے جیسے مسلمانوں کا اعتقاد اس وقت وہ ایمان لاتے ہیں لیکن ایسے وقت کا انسان کچھ سفید نہیں اس حدیث سے صاف اس شخص کا جھوٹا ہوتا کھاتا ہے جو ملک جید مرضیع تاریاں میں پیدا ہو ا ہے اور اپنے میں میٹی کہتا ہے دورہ حاکم ہوا نہ اس نے جزیہ مرقومت کیا بلکہ درہ خود شماری کا محکوم اور دست نگر ہے جانہ