مسیح اور مہدیؑ — Page 519
مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 519 رسول اللہ کے ساتھ قبر میں مسیح کی معیت کا مطلب م مؤطا امام مالك عکس حوالہ نمبر: 179 خير 315 ٥٤٣ - عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ أَنْ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ رَأَيتُ ثَلَاثَةَ أَقْمَارٍ سَقَطْنَ فِي حُجُرَتي فَقَصَصْتُ رُؤْيَايَ عَلَى أَبِي بَكْرِ الصِّدِّيقِ قَالَتْ فَلَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدُفِنَ فِي بَيْتِهَا قَالَ لَهَا أَبو بَكْرٍ هَذَا أَحَدُ أَفَمَارِكِ وَهُوَ۔حضرت یحیی بن سعید سے روایت ہے کہ ام المومنین عائشہ صدیقہ نیا نے کہا میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے حجرے میں تین چاند گر پڑے سو میں نے اس خواب کو ابو بکر صدیق یا اللہ سے بیان کیا جب رسول اللہ مسلم کی وفات ہوئی تو حضرت عائشہ نیہا کے حجرہ میں دفن ہو چکے تھے۔ابو بکر نے کہا کہ ان تین چاندوں میں سے ایک چاند آپ ہیں اور یہ تینوں چاندوں میں بہتر ہیں۔٥٤٤ - عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ مِمَّنْ يَيْقُ بِهِ أَنْ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ وَسَعِيدَ بْنَ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ تُوُفِّيَا بِالْعَقِيقِ وَحُمِلَا إِلَى الْمَدِينَةِ وَدُفِنَا بِهَا - کئی ایک معتبر لوگوں سے روایت ہے کہ سعد بن ابی وقاص ہے اور سعید بن زید علی علیہ کی وفات ہوئی عقیق میں ایک موضع ہے قریب مدینہ کے ) اور ان کا جنازہ اٹھ کر مدینہ میں آیا اور وہاں دفن ہوئے۔فائدہ تا کہ نماز جنازہ میں بہت سے لوگ شریک ہوں یا قبر کی زیارت لوگ کیا کریں اور دعا ہوا کرے۔جنازہ کو ایک شہر سے دوسرے شہر میں لے جانا مختلف فیہ ہے۔بعضوں کے نزدیک مکروہ ہے بعضوں کے نزدیک مستحب ہے۔(زرقانی) ٥٤٥ - عَن عُرْوَةَ أَنَّهُ قَالَ مَا أُحِبُّ أن أُدْفَنَ بِالْبَقِيعِ لأن أدْفَنَ بِغَيْرِهِ أَحَبُّ إِلَى مِنْ أَنْ أَدْفَنَ بِهِ إِنَّمَا هُوَ أَحَدُ رَجُلَيْنِ إِمَّا ظَالِمٌ فَلَا أُحِبُّ أَنْ أُدَفَنَ مَعَهُ وَإِمَّا صَالِحٌ فَلَا أُحِبُّ أَن تُنبَشَ لِى عِظَامُهُ حضرت عروہ بن زبیر اللہ نے کہا مجھے بقیع میں دفن ہونا پسند نہیں ہے اگر میں کہیں اور وفن ہوں تو اچھا ہے اس لیے کہ بقیع میں جہاں پر میں دفن ہوں گا وہاں پر کوئی گناہگار شخص دفن ہو چکا ہے تو اس کے ساتھ مجھے دفن ہو نا منظور نہیں ہے اور یا کوئی نیک شخص دفن ہو چکا ہے تو میں نہیں چاہتا کہ میرے لیے اس کی ہڈیاں کھودی جائیں۔باب الوقوف للجنائز والجلوس جنازہ کو دیکھ کر کھڑے ہو جاتا اور بیٹھنا على المقابر عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُومُ فِي الْحَنَائِزِ ثُمَّ (٥٤٣) ابن سعد، (٢٩٣/٢) أخرجه الحاكم (٣٩٥/٤) - (٥٤٤) ابن سعد (١٤٧/٣) بیهقی (٥٧١٤) - (٥٤٥) عبدالرزاق (٥٧٩/٣ - ٥٨٠) بیهقی (٥٨١٤) - قبروں پر (٥٤٦) مسلم (٩٦٢) كتاب الجنائز : باب نسخ القيام للجنازة ، أبو داود (٣١٧٥) ترمذی (١٠٤٤) خصصی (۱۹۹۳) ابن ماجه (١٥٤٤) أحمد (٨٢/١) -