مسیح اور مہدیؑ — Page 497
صحیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 497 عکس حوالہ نمبر: 171 مرقاة شرح مشكوة أبو جلدهم م 2 VOI رسول اللہ کے کامل غلام مہدی کا عالی مقام كتاب الفتن اخرجه أبو داود في السنن ٤٧٣/٤ حديث رقم ٤٢٨٢ والترمذى في السنن ٤٣٨/٤ حديث رقم ۲۲۳۰ وابن ماحه ۹۲۱/۲ حديث رقم ۲۷۷۹ واحمد في المستند ٧٧٦/١ - کا کا رحمه : " حضرت عبد الله بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا کہ رسول اللہ سلم نے ارشاد فر مایا دنیا اس وقت تک اپنے اختتام کو نہیں پہنچے گی جب تک عرب پر ایک شخص حکمران بن جائے گا جو میرے اہل بیت سے رشت داری رکھتا ہوگا میں سے ہوگا اور وہ میرا ہم نام ہوگا ( ترندی وابوداؤد) اور ابوداؤد کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ آپ مسلم نے ارشاد فرمایا: "اگر دنیا اپنے اختتام کو پہنچنے میں صرف ایک دن بھی باقی رہ جائے گا تو اللہ تعالٰی اس دن لمبا فرمادے گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ میری نسل سے یا یہ فرمایا کہ میرے اہل بیت میں سے ایک شخص کو پیدا کرے جو میرا ہم نام ہوگا اور جس کے باپ کا نام میرے باپ کے نام پر ہوگا اور وہ تمام روئے زمین کو ( عرب کی سرزمین کو ) اس قدر عدل و انصاف سے بھر دے گا جس قدر اس وقت سے پہلے تمام روئے زمین ظلم وجور سے بھری تھی۔تشريح : قوله لا تذهب الدنيا۔۔۔۔۔۔اسمه اسمى: حتى يملك العرب تمام اہل اسلام مراد ہیں، کیونکہ جو بھی اسلام کا حامل ہو وہ عربی ہے۔اس شخص کا نام محمد اور لقب ” مہدی ہوگا، وہ حضور علیہ السلام کی دکھلائی ہوئی راہ لوگوں کو دکھائے گا۔علامہ طیبی فرماتے ہیں کہ ( عربوں کا ذکر تو کیا) لیکن عجموں کا ذکر نہیں کیا، حالانکہ مجھ بھی مراد ہیں اس لئے کہ وہ شخص جب عربوں پر حکومت حاصل کرلے گا، اور ان کا موقف ایک ہو جائے گا، اور ایک ہاتھ کی انگلیوں کی طرح آپس میں متفق ہو جائیں گے تو تمام اقوام پر غالب آجائیں گے۔اس توجیہ کی تائید حضرت ام سلمہ کی حدیث سے ہوتی ہے جو عنقریب آرہی ہے اھ۔عرض مرتب : اسی باب میں آگے ام سلمہ کی دور وایات آرہی ہیں بظاہر مراد دوسری روایت ہے ملاحظہ فرمائیے : ۵۴۵۶۔اھ۔یہ تو جہیہ بھی ہوسکتی ہے کہ صرف عربوں کا ذکر اس لئے کیا کہ امام مہدی علیہ السلام کے زمانے میں عرب غالب ہو نگے یا اس لئے کہ عربوں کو شرافت حاصل ہے، یا یہ عبارت اکتفاء کی قبیل سے ہے اور مراد عرب و حجم دونوں ہیں، جیسا کہ ارشاد باری: سرابيل تقيكم الحرية) [النحل : ٨١) اور ایسے کرتے بنائے جو تمہاری لڑائی سے تمہاری حفاظت کریں“ میں ہے (صرف حرارت کے ذکر پر اکتفاء کیا ور نہ کپڑے گرمی و سردی دونوں سے بچاؤ کا ذریعہ ہیں۔) زیادہ واضح بات یہ ہے کہ صرف عربوں کا ذکر اس لئے کیا کہ تمام کے تمام عرب امام مہدی علیہ السلام کی اطاعت کریں گے۔بخالف عجم (مراد کی عرب کی ضد) کے کہ اُن میں سے بعض امام مہدی کی اطاعت کی مخالفت کریں گے۔واللہ تعالیٰ اعلم۔او من اهل بتي: ” او “ راوی کی طرف سے شک ہے۔جامع کے الفاظ یہ ہیں: "حتی یبعث فيه رجل من اهل بیتی۔یہاں تک کہ ان میں ایک شخص مبعوث ہو گا جو میرے اہل بیت سے رشتہ داری رکھتا ہوگا۔)