مسیح اور مہدیؑ — Page 480
مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 480 رسول اللہ کے کامل غلام عبدٹی کا عالی مقام یہ الفاظ قبول بھی کر لئے جاویں تو ان کا یہ مطلب لیا جائیگا کہ مہدی کے باپ میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے والد کی طرح روحانی انوار کے لئے استعداد موجود ہوگی۔اس لحاظ سے مہدی کا باپ بھی رسول اللہ کے باپ سے مشابہ ہو گا۔بالکل اسی طرح جیسے مہدی کا صفاتی نام محمد بیان کرنے میں بھی مماثلت تامہ ہی مراد تھی۔باقی جہاں تک ظاہری نام کا تعلق ہے روایات میں مہدی کا نام ”احمد“ بھی آیا ہے۔چنانچہ محدث حافظ نعیم بن حماد نے حضرت حذیفہ کی روایت سے مہدی کا نام احمد بیان کیا ہے۔عقد الدرر في اخبار المنتظر صفحه 62 حكمران المقدس (ایران) اس کی تائید علامہ ابن حجر صیمی نے بھی کی ہے اور مہدی کا نام احمد بیان کیا ہے۔(القول المختصر في علامات المهدى المنتظر صفحه 27 مكتبة القرآن قاهرة 66 175 176 میہ روایات بھی حضرت بانی جماعت احمدیہ علیہ السلام پر چسپاں ہوتی ہیں کیونکہ آپ کا اصل نام احمد ہی تھا۔آپ کے خاندان میں لفظ ” غلام بطور مشترک سابقہ کے استعمال ہوتا تھا۔جیسے آپ کے والد کا نام غلام مرتضی بھائی کا نام غلام قادر اور آپ کا نام غلام احمد تھا۔سو ظا ہری لحاظ سے بھی نام کی یہ پیشگوئی آپ کے حق میں پوری ہوئی جس طرح باطنی لحاظ سے محمدی سیرت وصفات کا آپ سے ظہور ہوا۔یہ سوال کہ کیا اس حدیث کے مطابق حضرت مرزا صاحب نے بطور مہدی دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دیا ہے؟ اسی حدیث پر ادنی سے تدبر سے حل ہو جاتا ہے۔کیونکہ حدیث کا مکمل جملہ یہ ہے کہ عدل وانصاف سے زمین اس طرح بھر دی جائے گی جیسے وہ پہلے ظلم و جور سے بھری تھی۔اور ظاہر ہے ظلم وجور سے یہ زمین چنددن یا سال میں نہیں بھر گئی بلکہ تدریجاً کئی سو سال میں یہ واقعہ ہوا۔اسی طرح امام مہدی کے ذریعہ قائم ہو نیوالے عادلانہ نظام کی تکمیل بھی تدریجا ہوگی جس کا شاندار آغاز بفضلہ تعالیٰ جماعت احمدیہ کے ذریعہ ہو چکا ہے۔اور دنیا کے اسی ممالک میں جماعت احمد یہ کے نظام قضا کے ذریعہ اعلیٰ معیار کا عدل و انصاف مفت فراہم کیا جاتا ہے۔حضرت بانی جماعت احمدیہ نے فرمایا: امروز قوم من نشناسد مقام من روزے بگر یہ یاد کند وقت خوشترم (ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 184 ایڈیشن 2008) ترجمہ: آج کے دن میری قوم میرا درجہ نہیں پہچانتی ، لیکن ایک دن آئیگا کہ وہ رو رو کر میرے مبارک وقت کو یاد کرے گی۔در مشین فارسی مترجم صفحه 166 مترجم حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل مطبوعہ 1967)