مسیح اور مہدیؑ — Page 479
مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 479 رسول اللہ کے کامل غلام مہدی کا عالی مقام ہے کیونکہ اسم کے معنے صفت کے بھی ہوتے ہیں جیسے فرمایا: وَ لِلهِ الأَسْمَاءُ الْحُسْنَى (الاعراف: 18 ) یعنی اللہ کے سارے نام پاک ہیں۔اس میں اسماء الہی سے اللہ کی صفات ہی مراد ہیں کیونکہ اسم ذاتی تو ایک اللہ ہی ہے باقی سب صفات ہیں۔چنانچہ حضرت ملا علی قاری نے بھی اسمُهُ اِسْمِی (اس کا نام میرا نام) کی تشریح میں صفاتی مماثلت مراد لیتے ہوئے لکھا ہے کہ مہدی کی صفات آنحضور کی صفات جیسی ہوں گی اور وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے مطابق لوگوں کو ہدایت دے گا۔( مرقاۃ المفاتیح جلد دہم صفحہ 157-158 مترجم مولانامحمد ندیم مکتبہ رحمانیہ لاہور ) وو 66 171 بعض روایات میں اِسمُهُ اِسمِی کی بجائے خُلُقُهُ خُلقِی“ کے الفاظ انہی معنی کی مزید تائید کر دیتے ہیں کہ آنے والے مہدی کی صفات واخلاق رسول اللہ کے اخلاق جیسے ہوں گے۔172 (كنز العمال الجزء الرابع عشر صفحه 273 موسسة الرسالة (بيروت) حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ آنے والے مسیح اور مہدی کے بارہ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ذکر فرمایا ہے کہ وہ میری قبر میں دفن ہوگا اور اس کا نام میرا نام ہوگا۔اس میں دراصل یہ اشارہ ہے کہ امام مہدی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کامل بروز ہوگا۔کشتی نوح روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 16 ایڈیشن 2008) یہی وہ حقیقت ہے جسے علمائے اسلام نے بھی بیان فرمایا۔حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (متوفی : 1176 ھ) نے مہدی کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بروز کہا ہے۔( تقسیمات الہیہ جزء ثانی صفحہ 198 مدینہ برقی پریس یو۔پی ) 173 حضرت علامہ عبد الرزاق قاشانی (متوفی : 730ھ ) لکھتے ہیں: مہدی آخری الزماں محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع ہوگا اور معارف علوم اور حقیقت میں تمام انبیاء اور اولیاء اس کے تابع ہوں گے۔کیونکہ اس کا باطن محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا باطن ہوگا۔“ (شرح فصوص الحكم صفحه 42-43 مصطفى البابي الحلبى مصر ) 174 یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ کسی حدیث میں مہدی کی ماں کا نام آمنہ اور باپ کا نام عبداللہ مذکور نہیں بلکہ زیر بحث حدیث کا ہی یہ ایک غلط نتیجہ ہے حالانکہ ماں کا تو اس حدیث میں سرے سے ذکر ہی نہیں ہے اور باپ کے نام کی مشابہت والے الفاظ محد ثین کے نزدیک ثابت نہیں۔تاہم اگر