مسیح اور مہدیؑ

by Other Authors

Page 391 of 708

مسیح اور مہدیؑ — Page 391

مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 391 عکس حوالہ نمبر 134 و جبال و یا جوج ماجوج پر مسیح موعود اور جماعت کا علمی وروحانی غلبہ فتنوں اور قیامت کی نشانیاں کا بیان تَصْدِيقًا لِحْذَيْفَة۔بھی یہ حدیث سنی ہے۔۷۳۷۱- عَن ربعي بن حِرَاشِ قَالَ الجتَمَعَ ٢٣ ربعی بن خراش سے روایت ہے حذیفہ او را ہو مسعود حديقة وأبو مَسْعُودٍ فَقَالَ حُذَيْفَهُ در لانا بما ودونوں جمع ہوئے۔حذیفہ نے کہا میں ان سے زیادہ جانتا ہوں جو فع الدجالِ أَعْلَمُ مِنْهُ إِنَّ مَعَهُ نَهْرًا من ماء دجال کے ساتھ ہوگا۔اس کے ساتھ ایک نہر ہوگی پانی کی ونهرًا مِنْ دَارٍ فَأَمَّا الَّذِي تَزوّن أنه فاز فان اور ایک نہر آنگ کی۔پھر جس کو تم آگ ، بیٹھو گے وہ پانی ہو گا اور وَأَمَّا الَّذِي تَرَوْنَ أَنَّهُ مَاءً تَارٌ فَمَنْ أَدرك ذلك جس کو تم پانی دیکھو گے وہ آگ ہے۔سو کوئی تم میں سے یہ وقت مِنْكُمْ فَأَرَادَ الْمَاءَ فَلْيَشْرَبْ مِنْ الذي نراه أَنه پاوے اور پانی پینا چاہے وہ اس نہر میں سے اپنے جو بال معلوم ہوتی نار فإنه سيجده ماءً (( قال أبو مسعود هكذا ہے اس کو پانی یا دے گا ابو مسعود نے کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ سبعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول علیہ وسلم سے ایسا ہی سنتا ہے۔۷۳۷۲- عن أبي هُرَيْرَةَ رضي الله عَنْهُ قَالَ ۷۳۷۲ - ابو ہریر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ( الا نے فرمایا کیا میں تم سے ، جال کی ایک بات ایسی نہ کہوں جو کسی نبی أَخَيرَكُمْ عَنْ الدُّجَالِ حَدِيثًا ما حدقه نبی نے اپنی امت سے نہ کہی ؟ ود کاتا ہو گا اور اس کے ساتھ جنت قَوْمَهُ إِنَّهُ أَغوَرُ وَإِنَّهُ يَجي مَعَهُ مِثل الجنةِ اور دوزخ کی طرح دو چیزیں ہوں گی۔پر جس کو وہ جنت کہے گا وَالنَّارِ فَالَّتِي يَقُولُ إِنَّهَا الْجَنَّةَ هِي النار وإني حقیقت میں وہ آگ ہوگی اور میں نے تم کو دجال سے ڈرایا جیسے انذرتكم به كَمَا أَنذَرَ بِهِ نُوحٌ قَوْمَهُ۔۔۔حضرت نوح علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی قوم کو ڈرایا۔۷۳۷۳- عن النواس بن سمعان رضي الله ۳۷۳ے۔نواس بن سمعان سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے عنه قال ذكر رَسُولُ اللهِ ع اللحاق ذات وجال کا ایک دن صبح کو ذکر کیا تو کبھی اس کو گھٹایا اور کبھی بڑھا یار امینی غَدَاةٍ فَخَفَضَ فِيهِ ورَقعَ حَتَّى ضَاءُ في طائفة کبھی اس کی تحقیر کی اور کبھی اس کے فتنہ کو بڑا کہایا کبھی بلند آواز سے النحل فَلَمَّا رُحْنَا إِلَيْهِ عرف ذلك فينا فقال گفتگو کی اور کبھی پست آواز سے ) یہاں تک کہ ہم نے گمان کیا کہ از ما شأنكُمْ (( قُلْنَا يَا رَسُولَ اللهِ ذكریت و جال ان درختوں کے جھنڈ میں آگیا۔جب ہم پھر آپ کے پاس الدجال غداة فحفظت فيه ورفعت حتى شام کو گئے تو آپ نے ہمارے چہروں پر اس کا اثر معلوم کیا ( یعنی ڈر في طائفة النخل فقال (( غير الدجال اور خوف)۔آپ نے فرمایا تمہارا کیا حال ہے ؟ ہم نے عرض کیا ولنتاد ( ) کا دجال اور جون اور مایوں کو خدا اتنی طاقت دے گاش ایمان کے امتحان کے واسطے کہ کون ان کے داؤں میں آتا ہے اور کون ایمان پر ثابت ، بتا ہے اہل ایمان کو لازم ہے کہ اب کسی کا فر یا خلاف شرع فقیر سے خرق عادت ویسے تو اس کا ہر گز و متتماد نہ کرے اس کو ، یہاں کا تا آپ جانے ایمان اور تقوے پر نظر کے امید بازی پر خیالی نہ کرنے کرامات اس کا نام ہے جو ولی یعنی متقی مومن ہے ہو اور جو کافر ہے دین ق سے ہو اس کو استند رات کہتے ہیں۔م