مسیح اور مہدیؑ — Page 358
مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 358 عکس حوالہ نمبر 122 دجال کی قوت و شوکت اور خر دقبال کی حقیقت کتاب الانبیاء / باب: ارشاد الہی اور ہم نے توقع کو ان کی قوم کی طرف بھیجا اور ہمہ: (۱۵-۳۱۴) رسول الله صلى الله عليه وسلم فى النَّاسِ فَاثْنى عَلَى اللهِ بِمَا هُوَ أَهْلَهُ ثُمَّ ذَكَرَ الدجال فقالَ إِنِّى لانذِرُكُمُوهُ وَمَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا انْدَرَ قَوْمَهُ لَقَدْ أَنْذَرَ نُوحٌ قَومَهُ وَلَكِنِّي أَقُولُ لَكُمْ فِيهِ قولا لَمْ يَقْلُهُ نَبِيٍّ لِقَوْمِهِ تَعْلَمُونَ أَنَّهُ أَعْوَرُ وَأَنَّ اللَّهَ لَيْسَ بِاغْوَرَ ) ترجمہ حضرت ابن عمر نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے لوگوں میں (خطبہ سنانے کے لئے ) کھڑے ہوئے پہلے اللہ تعالٰی کی اس کی شان کے مطابق حمد دشتار بیان کی پھر دجال کا ذکر فرمایا اور فرمایا میں تمہیں دجال ( کے تھنے ) سے ڈراتا ہوں اور کوئی نبی ایسا نہیں گذرا جس نے اپنی قوم کو اس سے نہ ڈرایا ہو اور بلاشبہ نوح علیہ السلام نے بھی اپنی قوم کو دجال سے ڈرایا لیکن میں تمہیں اس کے بارے میں ایک ایسی بات بتاتا ہوں جو کسی نبی نے بھی اپنی قوم کو نہیں بتائی تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ وہ دجال کانا ہوگا اوراللہ تعالی کا نہیں ہے۔(وہ ذات مقدس ہر عیب سے پاک ہے تعالٰی شانہ ) مطابقتة للترجمة | مطابقة الحديث للترجمة في قوله "لقد انذر نوح قومه"۔تعد موضع والحديث هنا ص ٤٧٠ ومر الحديث ص ۴۳۰ ، وياتى الحديث ص ۴۸۹، ص ۱۳۲ ، ص ۹۱۲ وص ۱۰۵۵، ص ۱۱۰۱ ۳۱۱۳ و حَدَّثَنَا أبو نعيم حدثنا شَيْبَانُ عن يَحْيَى عن أبي سَلَمَةَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رسولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم الا أحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا عَنِ الدَّجَالِ مَا حَدَّثَ قومه إنه اعور وإنه يجي معه بتمثال الجنة والنار فالتى يقول إنها الجَنَّة هي النَّارُ واني انذِرُكُم بِهِ كَمَا أَنذَرَ بِهِ نُوحٌ قَومَهُ۔ترجمہ حضرت ابو ہریرہ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا میں تم سے دجال کے بارے میں ایسی بات نہ بیان کروں جو کسی نبی نے اپنی قوم سے نہیں بیان کی ہے کہ وہ (رجال) کانا ہے اور وہ اپنے ساتھ جنت اور دوزخ کی مثال لائے گا جیسے وہ جنت کہے گا حقیقت میں رہی دوزخ ہوگی اور میں تمہیں اس کے فتنے سے اسی طرح ڈراتا ہوں جیسے نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کوڈرایا تھا۔مطابقة للترجمة | مطابقة الحديث للترجمة في قوله "كما انذر به نوح قومه"۔تعد موضعه والمحدیث هنا ص ۴۷۰ - ۳۱۱۵) حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّفَنا عبدُ الوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ حَدَّلَنَا الْأَعْمِشُ عن أبي صالح عن أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رسولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم يَجِي نُوحٌ وَامْتُهُ فيقولُ اللهُ هَلْ بَلغت فيقولُ نَعَم أى رَبِّ فيقولُ لِأُمِّتِهِ هَلْ بَلْعَكُمْ فَيَقُولُونَ لَا مَا جَانَنَا منْ نَبِيٍّ فيقولُ لِنُوحَ مِنْ يَشْهَدُ لَكَ فيقول محمدٌ وَأُمَّتُهُ فَتَشْهَدُ أَنَّهُ قَدْ بَلَغَ وَهُوَ قَولُهُ نصر الباری جلده باختم