مسیح اور مہدیؑ

by Other Authors

Page 291 of 708

مسیح اور مہدیؑ — Page 291

مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 291 عکس حوالہ نمبر : 98 خلافت علی منہاج النبوۃ کی پیشگوئی کا پورا ہونا کو ملے اس کے کیا ہیں ATT جلد چهارم وجود اور اس کا اور اس وقت تک باقی رہے گا جب تک اللہ چاہے گا، پھر اللہ تعالی (بی کو اپنے پاس بلا لینے کے ذریعہ نبوت کو اٹھائے گا اس کے بعد نبوت کے طریقہ پر خلافت کا کم ہوگی اور وہ اس وقت تک قائم رہے گی جب تک اللہ تعالی چاہے گل۔(یعنی تیس سال تک اپھر اللہ تعالی خلافت کو بھی اٹھالے گا اس کے بعد کاٹ کھانے والی بادشاہت کی حکومت کا کم ہوگی یعنی ایسے لوگوں کی بادشاہت کا زمانہ آئے گا جو آپس میں ایک دوسرے کو اس طرح ہوائیں گے جس طرح کتے کائتے ہیں۔اریدہ باد شاہت اس وقت تک قائم رہے گی جب تک اللہ چاہے گا، پھر اللہ تعالی اس بادشاہت کو بھی اس دنیا سے اٹھا لگا اس کے بعد قہر نمبر اور زور زبردستی والی بادشاہت کی حکومت قائم ہوگی اور وہ اس وقت تک باقی رہے گی جب کہ اللہ تعالی چاہے گا۔پھر اللہ تعالٰی اس بادشاہت کو بھی اٹھا لے گا۔اس کے بعد پھر نبوت کے طریقہ پر ا یعنی عدل و انصاف کو پورے طور پر جاری کرنے والی، خلافت قائم ہوگی اور اس خلافت" سے مراد حضرت معینی اور حضرت مہدی علیم السلام کا زمانہ ہے اتنا فرما کر آپ خاموش ہو گئے۔" حضرت حبیب ابن سالم نے (جو اس حدیث کے راویوں میں سے ایک راوی ہیں اور حضرت نعمان ابن بشیر کے آزاد کردہ غلام اور ان کے کاتب تھے، نیز ان سے حضرت قادہ وغیرہ روایتیں نقل کرتے ہیں ایوان کیا کہ جب حضرت عمر ابن عہد امور یہ مقرر ہوئے اور انہوں نے نبوت کے طریقہ پر حکومت قائم کی تو میں نے اس حدیث کی طرف ان کی توجہ مبذول کرنے کے لئے یہ جا لکھ کر ان کے پاس بھیجی اور اپنے اس احساس کا اظہار کیا کہ مجھ کو امید ہے کہ آپ وہی امیر المومنین یعنی خلیفہ ، ہیں جس کا ذکر اس حد یہ کہ میں کانٹے کھانے والی بادشاہت اور قہر و تکبر اور زور و زبر دستی والی بادشاہت کے بعد آیا ہے۔وہ یعنی عمر ابن عبد العزیز اس بات سے بہت خوش ہوئے اور اس تشریح نے ان کو بہت مسرور کیا یعنی اس بات کی امید و آرزو نے ان کو بھی بہت خوش کیا کہ حدیث میں جس آخری خلافت کا ذکر کیا گیا ہے شاید اس کا اطلاق میرے زمانہ خلافت ہی پر ہوا اس روایت کو تمام احمد نے اپنی مسند میں) اور بیہقی نے دلائل النبوۃ میں نقل کیا ہے۔