مسیح اور مہدیؑ — Page 254
مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں ترمذی شریف متر حجم جلد دوم ولا تقل مَعَ اسْمِ اللهِ شَي 254 عکس حوالہ نمبر :84 ۳۰۰ مسلمانوں کی فرقہ بندی اور ناجی فرقہ ایمان کا ایمان وہ عرض کرے کہ اسے رب میرے اس پر چہ کا کیا وزن ہوگا ان وقتوں کے روبرو سواللہ تعالی فرما دے گا تجھ پر ظلم نہ کیا جاوے گا۔نے پھر کےاور پہر فرمایا آپ نے پھر کھو دیے جاویں گے وہ دختر ایک پل میں میزان کے اور وہ پرچہ ایک پر میں سو کے ہو جائیں گئے دو دختر اور بھارتی ہو جاوے گا ہ پرچہ اور برابر نہیں ہو سکتی کوئی چیز اللہ کے نام مبارک کے آگئے۔ن یہ حدیث حسن ہے غریب ہے روایت کی ہم سے قتیبہ نے انہوں نے ابن لہیعہ سے انہوں نے عامر بن یحیی سے اسی اسناد سے مانند اس کے اور بطاقہ پرچہ ہے۔مترجم اس حدیث سے معلوم ہوا کہ تو حید اور اتباع سنت بری چیز ہے اور اقرار توحید اور قرار رسالت اصل اصول ہے نجات کا گرافسوس ہے ہمارے خوان زمان نے انہیں دو چیزوں کو نہایت دی اور تیر مارا ہے توحید کو تو خراب کیا کہ نہر پرستی اور شند و پستی میں مرگزاری اور لوگوں پوجنے میں اوقات خراب کیے اویا انبیاء کی نا مانتے رہے، شادی بیاہ موت تھی میں شیخ بند ہا اور لاودگی - رہا بڑھے باپ کے روٹ اور رابعہ بصری کی کھچڑی نے بھی ان کا تو ہنڈیانہ چھوڑا، هنوز باله نیا اور اتباع سنت کو جوشیه قرار رسالت تھا اس کو یوں برباد کی کہ کوئی مہینہ اور رفتہ بدعت سے خالی نہ چھوڑا یہاں تکہ ان کا اہتمام کیا کہ میں نہیں کر تھنا ہو جا و سے قرض لیوس سود سے لا دیں مگر طعام بداعت ضرور پکوا دیں۔بتائی اور مساکین کو نہ کھلادیں اور امراء اور اعتیاد کے یہاں حصے خوان بجوادیں چنانچہ تفصیل بعض بدعات کی ہم اوپر بیان کر چکے ہیں تکرار کی مہلت نہیں۔اللہ من منا من كلبا وارزقنا اتباع السنة وامتنا عليها - بَاب افْتَدَاقِ هَذِهِ الأُمَّةِ باب افتراق امت کے بیان میں عن ابي هريرةَ انَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ روایت ہے ابی ہریرہ نہ سے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و سلم وسلم قَالَ تفرقت اليهود على احدى وسبعین نے فرمایا متفرق ہو گئے ہو اکہتر یابہت فرقوں پر اور نصاری بھی إحْدَى فيفة أو اثْنَتَيْنِ وَسَبْعِينَ خِرقة والنصاری اسی کی مانند ، اور ہو جاوے گی میری امت تہتر فرقے۔مِثْلَ ذلِكَ وَتَفْتَرِتُ أُمَّتِي عَلَى ثَلَثٍ وَسَبْعِدُو فِرقة - نه ف اس باب میں سعد اور عبد اللہ بن عمرو اور عوف بن مالک سے بھی روایت ہے حدیث ابی ہریرہ انہ کی حسن ہے صحیح ہے۔عن عبد الله بن عمر و قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ روایت ہے عبداللہ بن عمرو سے کہ فرمایا رسول خدا صلی اللہ صلى الله عليه وسلم ليا تين على امتي ما اتى على علیہ وسلم نے آوے گا میری امت پر ایک ایسا زمانہ جیسا کہ آیا تھا۔تبني اسرائيل حنا و النعل بالنعل حتى ان كان بنی اسرائیل پر اور مطابق ہو دیں گے دونوں کے زمانہ جیسے مطابق وَالنَّعْلِ بِالنُّبُلِ حَتَّى مِنْهُم مَن الى أمَّهُ عَلَانِيَة لَكَانَ في أمتي من تصنع ہوتی ہے ایک نعلی دوسرے نعل کے یہاں تک کہ اگر ہو گا ان میں ذلِكَ وَ إِن بَنِي إِسْرَائِيلَ تَفَرقَتْ على سنتين د کوئی شخص ایسا کہ وہ زناکر سے اپنی ماں سے علانیہ تو ہو گا میری امت سبْعِينَ مِلَّة وَتَفْتَرِقُ أنتي على ثلث وسبعین میں سے ایسا شخص کے مرتکب ہو اس امر شنیج کا ، اور بنی اسرائیل ملة كلهم في النار إلا ملة وَاحِدَةٌ قَالُوا مَن متفرق ہوئے بہتر مذہبوں پر اور متفرق ہوگی میری امت