مسیح اور مہدیؑ

by Other Authors

Page 229 of 708

مسیح اور مہدیؑ — Page 229

مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 229 عالم اسلام کا زوال اور ظہور مہدی 133 عکس حوالہ نمبر : 76 گواہی کے مسائل کا بیان تُشْهِدْنِي عَلَى جَوْرٍ۔وَقَالَ أَبُو حَرِيْزِ اس کے علاہ اور بھی تمہارے لڑکے ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ ہاں ہیں۔عنِ الشَّعْبِيِّ: ((لَا أَشْهَدُ عَلَى جَوْرٍ)۔نعمان ! نے بیان کیا، میرا خیال ہے کہ آنحضرت مسلم نے اس پر فرمایا تو مجھ کو ظلم کی بات پر گواہ نہ بنا۔اور ابو تریز نے شعبی سے یہ نقل کیا [راجع: ٢٥٨٦] کہ آپ نے فرمایا میں ظلم کی بات پر گواہ نہیں بنتا۔گواہ پر اگر یہ ظاہر ہے کہ یہ ظلم ہے تو اس کا فرض ہے کہ اس کے حق میں ہر گز گواہی نہ دے ورنہ وہ بھی اس گناہ میں شریک ہو جائے گا۔٢٦٥١ - حَدَّثَنَا آدَمُ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ (۲۹۵۱) ہم سے آدم نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو جَمْرَةَ قَالَ : سَمِعْتُ زَهْدَمَ سے ابو جمرہ نے بیان کیا کہ میں نے زیدم بن مغرب سے سنا کہ میں بْنَ مُضَرب قَالَ: سَمِعْتُ عِمْرَانَ بْنَ نے عمران بن حصین منی خود سے سنا اور انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ حصين رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ سلم نے فرمایا کہ تم میں سب سے بہتر میرے زمانہ کے لوگ (صحابہ) خَيْرُكُمْ قَرْنِي ثُمَّ الَّذِيْنَ يَلُونَهُمْ ہیں پھر وہ لوگ جو ان کے بعد آئیں گے۔(تابعین) پھر وہ لوگ جو اس الذِيْنَ يَلُونَهُمْ - قَالَ عِمْرَانُ: لَا أَدْرِي کے بھی بعد آئیں گے (تبع تابعین) عمران نے بیان کیا کہ میں نہیں أَذَكَرَ النَّبِي بَعْدَ قَرْنَيْنِ أَوْ ثَلاثة - قَالَ جانتا آنحضرت علی علیم نے دو زمانوں کا ( اپنے بعد) ذکر فرمایا یا تین کا پھر إِنَّ بَعْدَكُمْ قَوْمًا يَحُونُونَ وَلَا آپ نے فرمایا کہ تمہارے بعد ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو چور ہوں يُؤتَمِنُونَ، وَيَشْهَدُون وَلَا يُستشهدون، گے جن میں دیانت کا نام نہ ہو گا۔ان سے گواہی دینے کے لئے نہیں وَيُنذِرُونَ وَلَا يَقُونَ، وَيَظْهَرُ فِيهِمُ کہا جائے گا۔لیکن وہ گواہیاں دیتے پھریں گے۔نذریں مانیں گے السمن))۔لیکن پوری نہیں کریں گئے ، مٹاپا ان میں عام ہو گا۔- [ أطرافه في: ٣٦٥٠، ٦٤٢٨، ٦٦٩٥]۔ا ب پ ک ک در ایام میں ان کو ہو نہ تم ان میں کے مارے بھی گواہی پہلے ادا کریں گے پر تم مطلب یہ ہے کہ نہ گواہی میں ان کو پاک ہو گا نہ قسم کھانے میں جلدی کے مارے کبھی گواہی پہلے ادا کریں گے پھر قسم سی کھائیں گے۔کبھی تم پہلے کھا لیں گے پھر گواہی دیں گے۔حدیث کے جملہ ويشهدون ولا يستشهدون پر حافظ ابن حجر فرماتے ہیں۔و بعارضه ما رواه مسلم من حديث زيد بن خالد مرفوعا الا اخبر كم بخير الشهداء الذي ياتي بالشهادة قبل ان يسألها واختلف العلماء في ترجيحهما فجنح ابن عبدالبر الى ترجيح حديث زيد بن خالي لكونه من رواية اهل المدينة لقد مه على رواية اهل العراق وبالغ فزعم أن حديث عمران هذا لا أصل له وجنح غيره إلى ترجيح حديث عمران لاتفاق صاحبى الصحيح عليه وانفراد مسلم باخراج حدیث زید بن خالد وذهب آخرون الى الجمع بينهما الخ (فتح) يعنى ويشهدون ولا يستشهدون سے زید بن خالد کی حدیث مرفوع معارض ہے، جسے امام مسلم نے روایت کیا ہے، جس کا ترجمہ یہ ہے کہ آنحضرت ملی کہ ہم نے فرمایا کیا میں تم کو بہترین گواہوں کی خبر نہ دوں ؟ وہ وہ لوگ ہوں گے کہ وہ طلبی سے پہلے ہی خود گواہی دے دیں۔ہر دو احادیث کی ترجیح میں علماء کا اختلاف ہے۔ابن عبدالبر نے حدیث زید بن خالد (مسلم) کو ترجیح دی ہے کیونکہ یہ اہل مدینہ کی روایت ہے۔اور حدیث مذکور اہل عراق کی روایت سے ہے۔پس اہل عراق پر اہل مدینہ کو ترجیح حاصل ہے۔انہوں نے یہاں تک