مسیح اور مہدیؑ — Page 205
مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 205 عکس حوالہ نمبر: 66 مسیح موعود اور امام مہدی کے مشترکہ کام ی ہوسکتے تھے۔شامی بنک سے قلی رایج دوران ایک کالا تماس اسکال والی نہ ہی نے اپن کرکے آخری ان میں سوال لوگوں کو اس ارادہ سے برگشت کیا جاتا ہے که بزرگش گیتا به آپ راضی شود۔او یہ کہا جائے کہ نئے سرے سے حدیث ے سال کی ہو اور ان پال کر پیس بولان کے اس مہم پر فتح پانے کے خیال سے مندری با لاعلماء ونیز تمام قدیم علما کے ماکے دانت درد رانا کرانے شاگردوں کو یہ ہدایت کرے رہے کہ قدیر نگوں کی تحقیق کی ران احادیث کی رورت نہیں ہے تو د دین پر ورک کے مسائ نکال کر مل کر اس ترکی ہے انھوں نے س حدیث کی ایک کی قسم کی لگ جماعت کھڑی کریں تاکہ وہ خاص دی پر بات کر رہنے نے کوشش کرے گمان کے بنا کر اگر یعنی اس جماعت کے عالم مولانا کے اصل مطلب کی دیر قائم نہ ہے بلکہ خد بھی ہیں آرہے قائدہ فروعی مسائل میں جھگڑہ اٹھایا اور نوے کام کیا اور جاہ مسلمانوں کی ایک کائی جماعت الگ کر کے اون کے دل میں دوسرے مسلمانوں کے ساتھ بعض قائم کیا اور بیکی دوسرے مسنوں کو یہ کہ کر رہا کرتے تھےکہ یہ خداور سول کو نہیں مانے با علی و ماریہ کومانتے ہیں ایسا ہی ان کے بعض عام غلو میں گا اور غلط راستہ اختیار کر کے اپنی جاہل جماعتوں کو سبق پڑ جانے لگے کہ دوسرے مسلمان سب مشرک ہیں کہ ہند اور سا کے مذہب کو نہیں بلکہ اب صیفی و شافعی کے مذہب کو مانتے ہیںاور یہ اصل بات ان پر امریکی مسلمان و صنفی و شافعی کواگرا مانتے بھی ہیں تو قرآن واحادیث کے مطالب کو سمجھانے کے لئے بطریق استا مانتے ہیں پر اس ظلم وزیادتی کی وجہ سے اس جماعت کے بعض لوگ ما در ایسے بہت گئے کیونکہ یہ خط میانی غیر قابل معافی گناہ ہے بلکہ ان کے بعض عالموں نے یہ تک فلوسے کا ایک اپنی جان باتوں کےدل می بینی بزرگان دین ان کی بہائی جاری اور خیال کیا کہ ایک ایسا نام ہے جس کی بدات راضی این ی غلط بیانی سے ہاتھ نہیں لگی ہیں انہیں مولانا نہ چین ایسے خیالات کے در پے ترادی زبان میں مین صاحب و بی تھر اور پرانے ریکھا کی الگ الگ راستہ سرسیداحد خان نے قرآن کو پیر ظاہری خود ساختہ عقلیات کی طرف لانے کی کوشش کی اسکے لئے اک تمام تفسیر بھی کبھی صرف اسے ایک یا دو کھانے کے لو گوں کو اپنے خیال کے مطابق قرآن کے مضامین بجھا سکے۔اسکے پیرونچی کہ ائے اور چراہ سے اسی از جدید پرتوی انجیل کی تغیر بھی کھی اور مولوی عبدالہ چکڑالوی چابی اول الی بین بن گئے اور جب دیکھا کہ لوگ امارات میں اختلاف کتے ہیں تواپنی بدبختی سے تمام مادیت وکتب شرع سے انکار کرکے کہاکہ صرف قرآن پرغور کرنا اور اس سے مسائل برآمد کرنا کائی ہے اس کے پر اہل قرآن کہلاتے اسی نماز میں پادری فرای ادریوں کی ایک بہت بری جامت ایران مان اٹھا کر لایت ے چالاک تھوڑے میں نام ہندوستان کو عیسائی بنالیں اور ایک انگریزوں سے رو پی کی بہت بڑی دو اور انا کی مرت قادیانی کڑکے ہوگئے اور فرائی اور ا سکی جماعت سےکہا کہ عینی حکام نام لیتے ہو دوسرے انسانوں کی طرح سے فوت ہوکر دفن ہو چکیں اور میں میں سے ایک کے بارے میں ہونے ہیں اور معاون ہوا۔تو که قبول کر نوارس ترکیب سے ایسے فرائی کو اس بعد زنگ کیاکہ اسکو اپنا چھا چھوڑ نامشکل ہوگیا اور اس ترکیب تے اوسے ہندوستان سے لیکر ولایت تکے پادریوں کو سک سے دینی مگر اس کلمبیان کے بعد رہا ہے وہ اس عقیدہ پر تو گیا دل اس وجہ سے یہ ہی پادری درباره طلا کردیا در کنار دووبار ونی کرنا ہوگا تو مصنوعی پرمحمول ہو کربے کار ثابت ہو گا اور اس وج سے کہا ترک اس عید پر جار باور قرآن و احادیث کی نامناسب طور پرتاویل کرتارہا یہ چار صاحساب فوت ہو کر دوسرے جانیں پہنچ چکے ہیں جی بی بی سےانھوں نے یہ کام کیا ہوگا وہ اش پر پایا ہے۔اور اسی کے قبضہ میں ایک حساب گرا کی بدولت اتنا ضرور ہوا کہ ان مسمانوں کی جماعتیں بلاضرورت میں تفرقہ ہوگئیں۔کاش وہ ایسا کرتے کیونکہ پے مخالفین کو بم بنا یا جواب دینا صداقت کو اپنے قبض ہیں کہتے ہوئے بھی ہو سکتا تھا یا کہ قرآن میں صدات کو اپنے بعد میں رکھتے ہوئے لوگوں ک نہ جانے کے راستے خدا نے بنائے ہیں سے خلاف پیر کے در گزی را که هرگز منزل خواهد رسید۔سعدی پادری نفر نی تن اپنی جماعت کے ہندوستان ہی رہ کر بارہ سال تک مختلف ناہے مارا کرتا یا مولوی غلام قادیانی نے تواپنا پہلوایا کرو اور اسی کی جا تو یہ باور کردیا گرینڈ اوکے حملوں سے کچھ پریشان سے ہو گئے اور اپنے بہتے شریف خاندان کے بندوں کیسائی بنالیاکیونکہ اس نے پارمیداورم پوران سب کو دین اور رب کا نام دیوتا کے اسے نکلے ہوئے کہتے ہیں ب شلوکوں و منتروں لاشعار کے مجموعے ہیں جنہیں سے بعض میں اخلاق کی درستی و سنیاس اور جوگ ( ترک دنیار درمانی حالت کی درستی لوگوں کے ساتھ انسان جیسے عمدہ مضامین بھی میں گرام ان میر اوس زمانہ کے شاعروں نے اوس زمانہ کی تہذیب کے مطابق اپنی دہائی زندگی کا خاک ہی بیان کیا ہے اور کہیں دیوتاؤں اور و تاروں سے نفع و نقصان کی امید اور انکی مورتیوں کی پرستی اور پر نظام عالم پر انکی آپس میں خون اک لڑائیوں کا بھیذکر کیا ہے۔اور وید کے منتروں (اشعار میں موبی۔چاندی گئی راگ اور پانی دریا درخت و غیرہ دیوتاؤں کی تری نیا بیان ہے اور گھوڑے گائے اور انسان وغیر کی یک قربانی کی تاکید ترا کا بیان ہو جایا کرے گاوہ بال داراور دم پر تے پائے گا ور ک میں گانے بجانے اور غیوں کے مقابلہ اپنی مویشیوں کی تعریف اور ان کےلئے عدہ چرائی ہوں کی دستیابی کی آزد ایک دوسرے سے مویشیوں کے چرانے کا بیان ہے۔دیوتا ہو کے یہاں میں قسمکے تھے از قسم انسان جیسے یہ تمام ماد و پیشن انا ار اور دور دنیا باتری ان کا کام لیا کرتے تے مگر وجہ ان پر ہاکی بات نہیں کرے اور بے زیادہ مادی اور اس کو تین کی عادت کرنے کو کہا ہے او از سیمای ای تمرین س کے آگے مردوں کی رو میں پیش ہوتی ہی پھروہ ان کو دو رجنت بانک (دوزخ وغیرہ میں روان کرتا ہے اور جن کا راج ہے اور بر کارا بھی اس کو دیا کرتے تھے جواب میں خرچ کر اپنے نے کی جر دیتا ہوا پھر ارش برساتا ہے وغیرہ وغیرہ اس سم کےاور بہت دیتا ہیں اورشیطان کودیت کہتے تھے ان ظاہری اسباکی تعریف : پرستش کے واحد کے مختار ل مون یا ہر چیز کے وجود د تا او یکی مرضی و قدرت پر موقوف مانے یا اسکی خالص عبادت یا انسان سے خدا کا براہ راست تعلق کا بیان ان میں نہیں ہے اور کئی کتابوں میں سورگ (جنت) تریک (دوزخ) اور ان میں سے کے بعد انسان کے داخلہ کا امان ذکر ہے گریہ داند خدا کی عباد یا مہربانی یا اسکی ناراضگی سے نہیں بلکہ دیوتاؤں کی عبادت مرضی و قہر پرموقوف بتایا ہے اس سے بجائے خدا دیوتاؤں کی عبارت کو لکھا ہے اور یہ ہی لکھا کہ مرتبہ خدا میں پرانسانی و دیگر جانداروں کی صورت میں آچکاہے جبکہ وہ اوتار بتاتے ہیں ملا لکھاہے کہ اجہ رام مندر کے میں انسانی روی و بی بی خدمات اداری یه کدخدا پھیلی اور چھوے اور نیز کرشن جی وغیرہ کی صورتوں مں آچکاہے ان کا عقیدہ بلکل ایساتھا جب کہ ہمسایوں سے ایک فرد ہے کہ ایسی کی انسانی صورت اختیار کرکے میں پر آیا۔قرآنمیں ندا ر امام ہے کہ مقام پر مرنے پیروں کو بھی اگر ہمیں ان لوگوں نے اس پیر کے دن کو پنے خیالات کے انے سے بگاڑ دیا اورحدیث میں ہے کہ نہیں کہتے ہیں اور بھی معلوم ہے کہ قدیم زمانے میں چھاپے لائے تھے اور تخریب کاروان تھا کہا کی ایک محفوظ ہوتی کہ حضرت موسی سے قبل میں تیر پنیر گزرے ہیں وکی دریا زیادہ تر زبانی طورپر ہواکرتی تھیں۔ہند داری کے بعض