مسیح اور مہدیؑ

by Other Authors

Page 153 of 708

مسیح اور مہدیؑ — Page 153

مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں ترجمہ: حضرت عیسی قیامت کبری کی نشانیوں میں سے ہیں اور یہ اس وجہ سے ہے میں سے ہے۔حدیث میں کہا گیا ہے کہ وہ (صحیح) ارض 153 *(819)* عیسی اور مہدی۔ایک ہی وجود کے دو لقب عکس حوالہ نمبر: 49 بی ترجمہ) اور امام کا پچھے پہنا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس دینوں پر اولیت حاصل ہونے کا احساس ہوگا جو اس کے مقام کہ اس (بیع) کا نزول قیامت کی نشانی من شده و ايلامه وانه لعل الساعة أى أن عيسى علیه السلام معما (بیع) کے وقت میں دین محمدی کو ( بعد الميه القيامة الكبرى وذلك أن نزوله من اشراط الساعة قبل اپنے رتبہ اور مقام میں باقی تمام مقدسہ کی گھائی پرجس کا نام انہی ہے اتے فی الحال بہت یا في الحديث ينزل على ثنية من الأرض المقدسة اسمها أفتق وسده گا اور اس کے ہاتھ میں نیزہ ہوگا جس سے وہ حربہ نقل بہا الدجال ويكسر الصليب ويهدم البيع والكائر (روحانی ) قطب کی وجہ سے ہے اور دجال کوئل کرے گا اور وہ صلیب توڑے گا اور ويدخل بيت المقدس والناس في صلاة الصبح فيتأخر الامام فيقدمه حضرت عیسی کو اس امام کا آگے کرنا وہ گرجے اور کیسے گرائے گا اور وہ بیت عیسی علیہ السلام و يصلى خلفه على دين محمد صلى الله عليه وسلم الله عليه وسلم اور شریعت محمدیہ پر اس کی اقتدا کرنا لمقدس میں داخل ہوگا ورنگ صبح کی نمازمیں فالنسة المسماة أفين اشارة الى مظهره الذى يتجسد فيه والارض ملت مصطفویہ اسلامیہ کی پیروی اور وں کے تو امام چھے بے گا اور حضرت حسن المقدسة الى المادة الطاهرة التي تكون منها جسد والحرية اشارة الى شریعت محمدی ) تبدیل نہ ہونے کی طرف اشارہ ہے۔اور صورة القدرة والشوكة التي تظهر فيها وقتل الدجال بيها الشارة الى اگر چہ وہ (مسیح) ان لوگوں کو ظاہری در اصل اس حدیث میں انفق نامی گھائی میں غلميته على المتغلب الماضل الذى يخرج هو في زمانه وكسر الصليب توحید سکھائے گا اور ان کو قیامت اشارہ اس (بیع) کے اس مظہر بائل کی و هدم السبع والكنائس إشارة إلى رفعه الدين المنافسة کبری کے حالات اور باقی رہنے طرف ہے جس میں مجسم ہو کر وہ آئے گا اور ودخوله بيت المقدس اشارة الى وصوله إلى مقام الولاية الذاتية والے چہرے کے طلوع کی معرفت ارض مقدسہ سے مراد وہ پاک مادہ ہے جس سے اس (سیح) کا جسم بے گا اور نیز اس فى الحضرة الالهية الذي هو مقام القطب وكون الناس في صلاة عطاکرے گا۔گے تو اس کو آگے کریں گے اور اس کے پیچھے دین محمد مے کی پیروی میں نماز پڑھیں گے۔مد الله تو بیت المقدس میں اس کے داخلے مقام قدرت اور شوکت کی طرف اشارہ ہے جس الصبح اشارة الى اتفاق المحمدين على الاستقامة في التوحيد عند یہ اس صورت میں ہے جب مہدی خود عیسی بن مریم ہو جیسا کہ حدیث میں وہ ظاہر ہوگا کیا ہوا اس (سی) کے طلوع مسبح يوم التسامة الكبرى بنا هورنور شمس الوحدة وتأخر میں آیا ہے لَا الْمَهْدِى إِلَّا عِيسَى غلبہ کی طرف اشارہ ہے جو اسے گراہ کرنے الامام اشارة الى شعور القائم بالدين المحمدي في وقته بتقدمه على اور اگر مہدی اس کے علاوہ کوئی اور ہو والے اس غالب کے خلاف حاصل ہوگا جو الكل في الرتبة المكان قطبيته وتقديم عيسى عليه السلام اياه اس کے زمانے میں خروج کرے گا اور کسر صلیب اور گرتے اور کیسے گرانے میں اس واقتداره به على الشريعة المجمدية اشارة الى متابعته الله سے مراد اس مقام مشاہدہ میں داخل اور (ج) کے مختف ادیان کو شکست دینے کی المصطفوية وعدم تغير الشرائع وان كان يعلهم التوحيد الغبانی ہوتا ہے جو مقام قلب سے دورے طرف اشارہ ہے اور بیت المقدس میں اس وبعرفهم أحوال القيامة الكبرى ومضلوع الوجه الباقى هذا اذا ہے اور امام جو نماز میں پیچھے بہتا ہے (بیع) کے داخلہ سے مراد اس کے حضرت سكان المهدى عيسى بن مريم على ماروى في الحديث لام ھدی الا وہ مہدی ہے اور باوجود یکہ وہ اپنے مهدى عيسى بن مريم وإن كان المهدى غيره فدخوله بيت المقدس وصوله زمانے کا قطب ہے اس کا پیچھے ہٹنا الوہیت میں ذاتی مقام ولایت کی طرف عیسی بن مریم وإن كان الما اشارہ ہے جو قطب کا مقام ہے اور لوگوں کے صاحب ولایت اور صاحب نبوت صبح کی نماز میں ہونے میں یہ اشارہ ہے کہ رانی محل المشاهدة دون مقام الق إلى محل المشاهدة دون مقام القداب والإمام الذى يتأخر هو المهدى (عیسی) کے ادب و لحاظ کی وجہ سے محمدی کے مری یعنی مسلمان بعینہ مدت ک نور کے وانما يتاخر مع كونيه قطب الوقت مراعاة لادب صاحب الولاية مع ہے اور حضرت عینی کا اس (مسیح) کو ظاہر ہونے کے قیامت کبری کی صبح طلوع صاحب النبوة وتقديم عيسى عليه السلام إياه لعله يتقدمہ فی نفس امامت میں آگے کرنا اس کے مقام قطب کے علم کی افضلیت و اولیت کی ہونے کے وقت تو حید پر استقامت سے قائم ہوں گے۔(بقیہ ترجمہ) وجہ سے ہے۔