مسیح اور مہدیؑ

by Other Authors

Page 538 of 708

مسیح اور مہدیؑ — Page 538

مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 538 مسیح موعود کے حج کی پیشگوئی کا مطلب تذكرة الحفاظ (جلد اول) عکس حوالہ نمبر :186 281 ت اولیا بو مسلم مستمل بیان کرتے ہیں : میں نے سفیان کو یہ فرماتے سنا کہ میرا نے جناب عمرو بن دینار کو سنا ، وہ فرما رہے تھے کہ چناب نوح مدینہ اپنی قوم میں نہ ٹھہرے تھے۔علی بن جعد کا قول ہے : میں نے جناب سفیان بن عینیہ کو یہ فرماتے سنا: جسے عقل میں زیادتی رہی جاتی ہے، اس کی روزی میں کمی کر دی جاتی ہے۔امام ابن عیینہ کا قول ہے : زہد یہ صبر کرنا اور موت کی تاک میں رہنا ہے۔اور جب تیرا علم تمھیں نفع نہ دے تو سمجھو کہ وہ تمہیں نقصان دے رہا ہے۔جناب ابن عیینہ کے حفظ و امانت کی وجہ سے حضرات ائمہ محدثین کا ان کی احادیث سے حجت پکڑنے پر اتفاق ہے۔آپ نے ستریج کیے۔تدلیس کرتے تھے لیکن ثقہ رواۃ سے کرتے تھے۔جمادی الآخر ۱۹۸ھ میں جان جان آفریں کے سپرد کر دی۔بط النسفی کے پاس ان کی چند عوالی موجود ہیں۔ہمیں محمد بن کی القرشی نے اور محمد الحافظ اور محمد بن بیان نے بعلبک میں، اور اسماعیل بن عبدالرحمن نے مشق میں اپنی ر کے ساتھ بیان کیا کہ یونس بن عبد الاعلی بیان کرتے ہیں : ہمیں سفیان بن عیینہ نے مجالد سے اور ایک اور شخص سے بیان کیا ، کہتے ہیں کہ ہم نے حضرت نعمان بن بشیر ڈلینڈا کو ، جب کہ وہ کوفہ کے امیر تھے ، یہ فرماتے سنا کہ: "میرے والد ماجد حضرت ر تو نے مجھے ایک غلام ہدیہ میں دیا۔انھوں نے نہیں کریم ملی ﷺ کی خدمت میں ماجرا گوش گزار کیا تو آپ صلی بی ایم نے دریافت " یا " کیا تم نے اپنی ساری اولاد کو (اسی طرح کا ایک ایک غلام ہدیہ میں ) دیا ہے ؟ انھوں نے عرض کیا کہ نہیں۔تو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرہ یا: میں سوائے حق بات کے اور کسی بات پر گواہ نہ بنوں گا۔“ نہیں حدیث ابن عیینہ تک ایک اور اسناد کے ساتھ کبھی مروی ہے جس میں ابن مکی کا ذکر نہیں ، چنانچہ ابن عیینہ بیان کرتے کہ مجھے زہری نے حمید بن عبد الرحیمین اور محمد بن نعمان سے بیان کیا ، وہ دونوں بیان کرتے ہیں کہ ہم نے حضرت نعمان بن بشیر کو یہ ارش و فر ماتے سنا کہ میرے والد ماجد علی سینا نے مجھے ایک غلام ہدیہ میں دیا۔آگے گزشتہ کی طرح حدیث ہے۔البتہ اس یہ الفاظ بھی ہیں کہ: (میرے والد کا نفی میں جواب سن کر آپ کا ہم نے ارشاد فرمایا '' تب پھر (اس سے بھی وہ غلام ) ایک اور ۱۲۵۰ / ۱۹ ۴: الامام القدده، شیخ الاسلام ابوبکر بن عیاش الكوفي ، المقرى ، الاسدی، الحفاظ بانه : 0 آپ واصل الاحدب کے آزاد کردہ غلام تھے۔آپ کے نام کے بارے میں متعدد اقوال ہیں، اصبح قول یہ ہے کہ آپ کی نیت ہی آپ کا نام ہے ، ائمہ ثقات کی ایک جماعت نے اس کو رائج قرار دیا ہے۔ایک قول یہ ہے کہ آپ کا نام شعبہ اور کنیت تهذيب : 34/12، تغريب: 39/2، الوافي بالوفيات: 241/10 طبقات ابن سعد: 269/6 العبر : 311/1، شذرات الذهب: 334/1، تفسير الطبري: 98/7 نسيم الرياض: 410/3 الجرح والتعديل : 348/9، تاریخ بغداد: 381/14۔الجمع بين الصحيحين : 2317