مسیح اور مہدیؑ

by Other Authors

Page 398 of 708

مسیح اور مہدیؑ — Page 398

مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 398 دقبال و یا جوج ماجوج پر مسیح موعود اور جماعت کا علمی وروحانی غلبہ بدایه و النباید: جلد نمبر ۱۳ عکس حوالہ نمبر : 136 ۲۲۵ م نے وہ کے حانات دواقعات کے پالنا ہے دراز کی عمر کے اسے کم سمجھنے سے فائدہ اٹھایا' آپ کی عمر ۸۰ سال تھی، آپ نے اسے نماز و تلاوت میں بسر کیا اور شیخ آپ سے حسن سلوک کرنے اور آپ کی بات مانتے تھے اور چونکہ وہ طبعا اور شرعاً آپ سے محبت رکھتی تھی اس لیے آپ اس کی مخالفت نہیں کرتے تجھے اللہ اس پر رحم فرمائے اور اس کی روح کو پاک کرے اور رحمت سے اس کے ٹھکانے کو منور فرمائے۔آمین۔اور ۲۱ جمادی الاول کو بدھ کے روز شیخ شمس الدین محمد بن احمد بن عبد الهادى المقدسی احسنلی نے قاضی برہان الدین الازرعی کی بجائے قاسیمون کے دامن میں شیخ ابو عمرو کے مدرسہ میں انکتمرق کی تدریس کے بارے میں درس دیا اور آپ کے پاس متقاد سید اور کمہار حنابلہ حاضر ہوئے اور اس روز کثرت بارش اور کیچڑ کی وجہ سے اہل شہر حاضر نہ ہو سکے اور رمضان کے آخری عشرہ میں جامع اموں کے شرقی مینار کی تعمیر مکمل ہو گئی اور لوگوں نے اس کی تعمیر اور مضبوطی کو اچھا خیال کیا اور بعض نے بیان کیا ہے کہ اسلام میں اس کی مانند مینار تعمیر نہیں ہوا وللہ الحمد۔اور بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ یہ وہ شرقی منارہ ہے جس کا ذکر حضرت نواس بن سمعان کی حدیث میں دمشق کے مشرق میں حضرت معینی بن مریم میرسم کے سفید منارہ پر اترنے کے بارے میں ہوا ہے اور شاید بعض رواؤ سے حدیث کا لفظ الٹ بیان ہو گیا ہے اور وہ صرف دمشق کا شرقی منارہ ہے اور یہ منارہ شرقیہ کے نام سے مشہور ہے کیونکہ یہ غربی منارو کے مقابلہ پر ہے واللہ سبحانہ و تعالی اعلم۔اور ماہ شوال کے آخر میں منگل کے روز دار السعادة کے دار العدل میں ایک مجلس منعقد ہوئی اور میں بھی اس روز اس میں حاضر ہوا اور حسب دستور قضاۃ و اعیان بھی حاضر ہوئے اور اس روز عثمان الہ کا کی کو بھی حاضر کیا گیا اللہ اس کا برا کرے اور اس پر بڑے بڑے افعال کا دعوی کیا گیا جو علاج اور ابن ابی الند افر استعمانی سے بھی منقول نہیں ہیں اور اس پر دعوئی الوہیت کی دلیل قائم کی گئی ہے۔اللہ اس پر لعنت کرے اور کچھ دیگر باتیں بھی ہیں جو انبیاء کی تنقیص اور الباجر یقیہ اور اتحاد میہ وغیرہ ارباب ریب سے مخالطت رکھنے سے تعلق رکھتی ہیں ان پر اللہ کی لعنت ہو اور اس نے مجلس میں قاضی مبلی کی بے ادبی کی جو مالکیہ کے نزدیک اس کی تکفیر کو متضمن ہے اس نے دعوی کیا کہ اسے بعض گواہوں پر اعتراضات ہیں، پس اسے بیڑیاں اور طوق ڈال کر اور بری حالت میں قید خانے کی طرف واپس کر دیا گیا اور اللہ نے اس پر اپنی قوت اور طاقت سے قابو پالیا اور جب الارز والقعدہ کو منگل کا دن آیا تو اس نے عثمان الدکا کی مذکور کو دار السعادۃ میں حاضر کیا اور اسے امراء اور قضاۃ کے سامنے کھڑا کیا اور اس سے گواہوں کے متعلق اعتراضات دریافت کیے گئے تو وہ بات نہ کر سکا اور کسی اعتراض کی طاقت نہ پاسکا اور اس امر سے عاجز آ گیا پس اس پر حکم لگا یا گیا اور قاضی مالکی سے اس پر حکم لگانے کے متعلق دریافت کیا گیا تو اس نے اللہ کی حمد و ثناء کی اور رسول کریم میں پر درود پڑھا پھر حکم دیا خواہ یہ تو یہ کرنے یا اس کا خون بہا دیا جائے میں مذکورہ شخص کو پکڑا گیا اور دمشق کے سوق الخیل میں اسے قتل کر دیا گیا اور اعلان کیا گیا' یہ اس شخص کی جزا ہے جو اتحادیہ کے مذہب کو اختیار کرتا ہے اور دار السعادۃ میں یہ ایک جشن کا دن تھا اور بہت سے اعیان و مشائخ حاضر تھے اور ہمارے شیخ حافظ جمال الدین الحزقی اور حافظ شمس الدین الذہبی بھی حاضر تھے ان دونوں نے بھی قضیہ کے بارے میں بہت گفتگو کی اور بات چیت میں اس کی زندقت کی گواہی دی اور شیخ تقی الدین بن تیمیہ کے بھائی شیخ زین الدین نے بھی یہی کہا اور تنوں قضا مالکی، حنفی اور حنبلی نے باہر نکل کر مجلس میں اس پر حکم نافذ کیا اور مذکورہ شخص کے قتل میں حاضر ہوئے اور میں بھی اس ساری النشر