مسیح اور مہدیؑ — Page 392
مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 392 درقبال و یا جوج ماجوج پر مسیح موعود اور جماعت کا علمی وروحانی غلبہ عکس حوالہ نمبر 134 فتنوں اور قیامت کی نشانیاں کا بیان عَلَيْكُمْ إِن يَخْرُجْ وَأَنَا فِيكُمْ فَآنا یا رسول اللہ! آپ نے دجال کا ذکر کیا اور اس کو گھٹایا اور بڑھایا یہاں حجيجه دونَكُمْ وَإِن يَخْرُجْ وَلَسْتُ فِيكُمْ تک کہ ہم کو گمان ہو گیا کہ دجال ان درختوں میں کھجور کے موجود فامْرُؤٌ حَجِيجُ نَفْسِهِ وَاللَّهُ خَلِيفَتِي عَلى كُلِّ ہے (یعنی اس کا آنا بہت قریب ہے)۔رسول اللہ نے فرمایا مجھ کو مُسلِم إِنَّهُ شَابٌ قَطَعَ عَيْنَهُ طَافة سكاني وجال کے سوا اور باتوں کا خوف تم پر زیادہ ہے (فتوں کا آپس میں أَشَبِّهُهُ بِعَبْدِ الْعُزَّى بْن قَطَنٍ فَمَن أَدْرَكَهُ لڑائیوں کا)۔اگر دجال نکلا اور میں تم لوگوں میں موجود ہو ا تو تم سے مِنكُمْ فَلْيَقْرَأَ عَلَيْهِ فَوَاتِحَ سُورة الكيف انه پہلے میں اس کو الزام دوں گا اور تم کو اس کے شر سے بچاؤں گا۔اور خارج خلة بين الشام والعراق فعات مینا اگر وہ نکلا اور میں تم لوگوں میں موجود نہ ہوا تو ہر مرد مسلمان اپنی وَعَاثَ شِمَالًا يَا عِبَادَ اللهِ فَالْحُوا (( قننا با طرف سے اس کو الزام دے گا اور حق تعالی میرا خلیفہ اور نگہبان ہے رَسُولَ اللهِ وَمَا ابله في الْأَرْضِ قَالَ ہر مسلمان پر۔البتہ دجال تو جوان گھونگریالے بالوں والا ہے اس کی أربعون يوما يَوْمَ كَسَبَةٍ ويوم كشهر آنکھ میں ٹیسٹ ہے گویا کہ میں اس کی مشابہت دیتا ہوں عبد العزئی وَيَوْمٌ وَيَوْمٌ كَجُمُعَةٍ وَسَائِرُ أَيَّامِهِ كَأَيَّامِكُمْ (( قُلنا بن قطن کے ساتھ (عبد العزنی ایک کافر تھا)۔سو جو شخص تم میں يا رَسُولَ اللَّهِ فَذَيْكَ الْيَوْمُ الَّذِي حَسَةٍ سے رجال کو پارے اس کو چاہیے کہ سورہ کہف کے سرے کی آیتیں أَتَكْفِينَا فِيهِ صَلَاهُ يَوْمٍ قَالَ (( لَا اقْدُرُوا لَہ اس پر پڑھے۔مقر ر وہ نکلے گا شام اور عراق کے درمیان کی راہ سے قَدْرَة (( قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ وما إسرائة في تو خرابی ڈالے گادا ہے اور فساد اٹھائے گا ہا ئیں اے خدا کے بندو! إِسْرَاتُهُ الْأَرْضِ قَالَ « كَالْغَيْثِ استدبونة الربع ایمان پر قائم رہنا۔اصحاب بولے یار سول اللہ رو زمین پر کتنی مدت فَيَأْتِي عَلَى الْقَوْمِ فَيَدْعُوهُمْ فَيُؤمنون یہ رہے گا؟ آپ نے فرمایا پائیس دن تک۔ایک دن ان میں کا ایک ويستجيبون لَهُ فَيَأْمُرُ السَّمَاءُ فَتُمطر سال کے برابر ہو گا اور دوسرا ایک مہینے کے اور تیسرا ایک ہفتے کے اور وَالْأَرْضَ قَبتَ فَتَرُوحُ عَلَيْهِمْ سارحتهم باقی دن جیسے یہ تمہارے دن ہیں ( تو ہمارے دنوں کے حساب سے أطول ما كَانَتْ ذُرًا وَأَسْبَعَهُ ضُرُوعًا وَآمَدَّة وجال ایک برس دو مہینے چودہ دن تک رہے گا)۔اصحاب نے عرض خَوَاصِرَ ثُمَّ يَأْتِي الْقَوْمَ فَيَدْعُوهُمْ فَيَرُدُّون کیا یا رسول الله ا جو دن سال بھر کے برابر ہو گا اس دن ہم کو ایک ہی عَلَيْهِ قَوْلَهُ فَيَنْصَرِفُ عَنْهُمْ فَیض خون دن کی نماز کفایت کرے گی ؟ آپ نے فرمایا نہیں تم اندازہ کر لینا اس متجلِينَ لَيْسَ بأَيْدِيهِمْ شَيْءٌ من أموالهم دن میں بقدر اس کے یعنی جتنی دیر کے بعد ان دنوں میں نماز پڑھتے ويَمُرُّ بِالْخَرِبَةِ فَيَقُولُ لَهَا أَخرجي منور که برای طرح اس دن بھی انکل کر کے پڑھ لینا ( اب تو گھڑیاں بھی قبعة كنوزها كيعاسيب النحل ثُمَّ يَدْعُو موجود ہیں ان سے وقت کا اندازہ بخوبی ہو سکتا ہے۔نووی نے کہا رَجُلًا مُمْتَلِنَا شَبَابًا فيضربه بالسيف فيقطعة اگر آپ یوں صاف نہ فرماتے تو قیاس یہ تھا کہ اس دن صرف پانچ جزلتَيْنِ رَميةَ الْعَرْضِ ثُمَّ يَدْعُوهُ فيقبل نمازیں پڑھنا کافی ہوتیں کیونکہ ہر دن رات میں خواہ کتنا ہی بڑا ہو اللہ ۴۴۹