مسیح اور مہدیؑ

by Other Authors

Page 262 of 708

مسیح اور مہدیؑ — Page 262

مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 262 مسلمانوں کی فرقہ بندی اور ناجی فرقہ عکس حوالہ نمبر : 87 ترجمان القرآن جلد ۲۲ مرد ۳ نم عليه واصحابي ! ر سائلی و ساسی به بان بنی اسرائیل تفرقت على بثنتين وسبعين ملة في اسرائیل نوری فرتوں میں بٹ گئے تھے اور میری است نظر فرنیا میں و تفتيق امتى على ثلاث وسبعين سنة كلهم في الناس بن جائے گی جو سب کے سب جہنم میں پڑ جائیں گے وہ جو ایک سکے۔الأملة واحدة ، قالوا من هي یا رسول اللہ ا قبال ملانا لوگوں نے پر کیا یہ کون لوگ ہوں کے یار سول الله ؟ آپ نے فرمایا جو میرے اور میرے اصحاب کے طریقہ پر ہوں گے۔اچھا اور ابو وائر کے یہاں پہلی روایت کسی قدر مختلف الفاظ میں ہے اور ان میں اس بات کی تفریح ہے کہ میں فرقہ جو آپ کے اور آپ کے صحابہ کے طریق پر ہوگا۔جماعت ہے اور اسی کے اوپر نشر کی رحمت کا ہاتھ ہے۔عن محاویلہ اختتامی وسبعون في الناس وواحدة في الجنة، وهي الجماعة (سارہ سے روایت ہے کہ بہتر فرقے جسم میں ہوں گے ، ایک جنت میں ہوگا اور رہی جماعت ہے)۔اس سے معلوم ہوا کہ ایک زمانہ اس امت پر ایسا آئے گا جبکہ اس کے بڑے حصہ میں کہ خلافت کا اثرہ اسی طرح سرایت کر جائے گا جس طرح انہیں کتنے کے گانے سے اس کا زہر آدمی کی رگ رگ میں سرایت کر جاتا ہے ضرت تھوڑے لوگ کے رہیں گے جو آنحضرت صلی الہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کے طریق پر ہوں گے، اور وہی لوگ جماعت میں ہوں گے۔بعینہ اسی مضمون کی ایک حدیث اور نبی ہے جیس کے الفاظ یہ ہیں : لا تزال طائفة من امتی علی الحق۔۔۔۔میزی است میں ایک گروہ ہی ان پر نام ہے اور جو لوگ نہیں چھوڑیں گے ان کو کچھ ضرورت پہنچائیں گے۔گه یه نوروزی است کبھی گرا نہ ہوگی ، علیکہ ایک جماعت فراد و کشتنی فی اثرات کو اپنے ترین ہونے کی نوید | یہی مضر ہو ان پر قائم رہے کی اور وہی جماعت آتی ہے۔یز اندر کا ہاتھ ہے، بقیہ سب مہم میں پڑیں گے۔ان انار برقی ہونے کی وہیں بھرائے گا، بلکہ اس امت کے ہوں تامین ارز بیگا۔لوگوں کی ہو گی ، اء لوگوں کی ہوگی، جیسا کہ فرمایا ہے بابا والا اسلامی نے ا یہ امریکی بالکل واضح ہے کہ یہ گرو ہ نہ کثرت ہیں، جو کہ فرقوں میں سے ایک ہو گا اور اس گوند د نیا می غریباد الاصلاح فمن الناس لبدي من شيم السلام فورت اران بارانی پانی ہے ان اجنبیوں کے لیے ہر دوسروں کے بگاڑے بہت رویا میں شروع ہوا اور راسی غربت میں پھر میکے کی اصلاح کریں گے)۔ہیں جو جماعت محض اپنی گرفت تعداد کی بنا پر اپنے آپ کو وہ جماعت قرار دے رہی ہے میں پر اسد کا اتے ہے اور سی مشورہ ہونا جنم میں رائن ہونے کے راولتا ہے، اس کے لیے تو اس حدیث میں امید کی کوئی کرن نہیں، کیونکہ اس حدیث میں اس جماعت کی دو خلا میں نمایاں طریقہ پر بیان کردنی کئی ہیں، ایک تو یہ کہ وہ آنحضرت صلی الہ علیہ وسلم اور آپ کو کے طریق پر ہوئی ، دوسری یہ کہ عنایت اقلیت میں ہوگی۔ہے کا گرین حضرات تو ان کا استعالی کی بالکل حمل ہے۔اول تو اس حدیث کا تعلق اجماع سے بالکل ہے ہی سہی کھا اس کا مطلب رہی ہے جو ہم نے او پر مان کر دیا ہے۔دوسرے پر کسی قسم کے چند حالوں کا کسی راہ کواختیار کرلینا و جا نہیں ہے جو شریعیت میں معتبر ہے۔شریعت میں معتبرا جاہت وہ ہے جس پر مسلمانوں کا امیر اور اس کے ارباب من ولقد مریم