مسیح اور مہدیؑ — Page 245
مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 245 مسلمانوں کی فرقہ بندی اور ناجی فرقہ بعض لوگ اس ناجی جماعت سے مراد سواد اعظم یعنی اکثریت لیتے ہیں جو درست نہیں ہوسکتا کیونکہ قرآن شریف کے بیان کے مطابق اکثریت ایمان پر قائم نہیں ہوتی بلکہ اکثر لوگ انکار کر کے کا فریا فاسق (مختصر سيرة الرسول صفحہ 25) ہو جاتے ہیں۔مولوی مودوی صاحب ایک سوال کے جواب میں ناجی فرقہ کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں : یہ امر بھی بالکل واضح ہے کہ یہ گروہ نہ کثرت میں ہوگا۔نہ اپنی کثرت کو اپنے برحق ہونے کی دلیل ٹھہرائے گا۔بلکہ اس امت کے 73 فرقوں میں سے ایک ہوگا اور اس معمور دنیا میں ان کی حیثیت اجنبی اور بریگا نہ لوگوں کی ہوگی۔۔۔پس جو جماعت محض اپنی کثرت تعداد کی بناء پر اپنے آپ کو وہ جماعت قرار دے رہی ہے جس پر اللہ کا ہاتھ ہے اور جس سے علیحدہ ہونا جہنم میں داخل ہونے کے مترادف ہے، اس کے لئے تو اس حدیث میں امید کی کوئی کرن نہیں۔کیونکہ اس حدیث میں اس جماعت کی دو علامتیں نمایاں طریقہ پر بیان کر دی گئی ہیں، ایک تو یہ کہ وہ آنحضرت اور آپ کے صحابہ کے طریق پر ہوگی۔دوسری یہ کہ نہایت اقلیت میں ہوگی۔“ (ماہنامہ ترجمان القرآن رمضان ، شوال 1364 ھ صفحہ 79-80) 87 ایک اور حدیث میں بہتر ہلاک ہونے والے فرقوں کے مقابل پر ناجی فرقہ کی ایک اور نشانی رسول کریم ﷺ نے یہ بیان فرمائی کہ وہ متحد جماعت ہوں گے اور ظاہر ہے کہ حقیقی جماعت کا تصور بغیر امام کے نہیں ہوسکتا اس لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب آخری زمانہ کے فتنوں کا ذکر فرمایا تو حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا تھا کہ یا رسول اللہ ان حالات میں ہمارے لئے کیا ہدایت ہے۔آپ نے فرمایا مسلمانوں کی اس جماعت میں شامل ہونا جس کا ایک امام موجود ہوا اور اگر کوئی امام والی جماعت نہ ہو تو تمام فرقوں سے کنارہ کش رہنا خواہ درخت کی جڑیں کھا کر گزارہ کرنا پڑے یہاں تک کہ تجھے موت آ جائے۔( نصر الباری جلد ہفتم صفحہ 629-630 ناشر مکتبہ الشیخ بہادر آباد کراچی ) 88 دوسری روایت میں ہے کہ فرقہ واریت اور گمراہی کی طرف دعوت دینے والوں کے زمانہ میں اگر تم خدا کا کوئی خلیفہ دیکھو تو اس سے چمٹ جانا خواہ تجھے مارا جائے اور تیرا مال لوٹ لیا جائے۔( مسند احمد حنبل صفحہ 1698 مكتبة دار السلام ) 89 اس حدیث کو امام ترمذی نے فنی لحاظ سے ”حسن غریب قرار دیا ہے یعنی حدیث عمدہ ہے مگر