مسیح اور مہدیؑ — Page 227
مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 227 عکس حوالہ نمبر : 75 علم کے بارے میں عالم اسلام کا زوال اور ظہور مہدی 272 قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ اللَّهُ يَقُولُ: ((إِنَّ م سے سنا، آپ اللہ فرماتے تھے کہ اللہ علم کو اس طرح نہیں اٹھا الله لا يَقْبضُ الْعِلْمَ التِرَاعًا يَنتَزِعُهُ مِنَ لے گا کہ اس کو بندوں سے چھین لے۔بلکہ وہ (پختہ کار) علماء کو موت الْعِبَادِ، وَلَكِنْ يَقْبِضُ الْعِلمَ بِقَبْضِ الْعُلَمَاءِ دے کر علم کو اٹھائے گا۔حتی کہ جب کوئی عالم باقی نہیں رہے گا تو لوگ إذا لَمْ يُبق عَالِيمًا الخل النَّاسُ جاہلوں کو سردار بنالیں گے ان سے سوالات کئے جائیں گے اور وہ بغیر رؤوسا جهالاً فَسَيلُوا فاقتوا بغَيْر عِلْمٍ کے جواب دیں گے۔اس لئے خود بھی گمراہ ہوں گے اور لوگوں کو فَضَلُّوا وَأَضَلُّوا قَالَ الْفِرَبْرِيُّ حَدَّكَ بھی گمراہ کریں گے۔فریری نے کہا ہم سے عباس نے بیان کیا، کہا ہم عباس قَالَ: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ سے قتیبہ نے کہا ہم سے جریر نے انہوں نے ہشام سے مانند اس عَنْ هِشَامٍ نَحوَه۔[ طرفه في : ٧٣٠٧]۔حدیث کے۔ت پختہ عالم جو دین کی پوری سمجھ بھی رکھتے ہوں اور احکام اسلام کے وقائق و مواقع کو بھی جانتے ہوں ایسے پختہ دماغ علماء ختم ہو جائیں گے اور سطحی لوگ مدعیان علم باقی رہ جائیں گے جو نا کبھی کی وجہ سے محض تقلید جلد کی تاریکی میں گرفتار ہوں گے اور ایسے لوگ اپنے غلط فتووں سے خود گراہ ہوں گے اور لوگوں کو بھی گمراہ کریں گے۔یہ رائے اور قیاس کے دلدادہ ہوں گے۔یہ ابو عبد الله محمد بن یوسف بن مطر فریری کی روایت ہے جو حضرت امام بخاری کے شاگرد ہیں اور صحیح بخاری کے اولین راوی یہی فربری پوچھ ہیں۔بعض روایتوں میں بغیر علم کی جگہ برابھم بھی آیا ہے۔یعنی وہ جاہل مدعیان علم اپنی رائے قیاس سے فتوی دیا کریں گے۔فال العينى لا يختص هذا بالمفتين بل عام للقضاة الجاهلین یعنی اس حکم میں نہ صرف مفتی بلکہ عالم جاہل قاضی بھی داخل ہیں۔٣٥ بَابُ هَلْ يُجْعَلُ لِلنِّسَاءِ يَومٌ باب اس بیان میں کہ کیا عورتوں کی تعلیم کے لئے کوئی عَلَى حِدَةٍ فِي الْعِلْمِ؟ خاص دن مقرر کیا جا سکتا ہے؟ ١٠١ - حَدَّثَنَا آدَمُ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ (۱۱) ہم سے آدم نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے ان سے ابن قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ الأَصْبَهَانِي قَالَ: سَمِعْتُ الصبہانی نے، انہوں نے ابو صالح ذکوان سے سنا وہ حضرت ابو سعید أبا صالح ذَكْوَانَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ خدری بنی اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ عورتوں نے رسول اللہ مال العالم الْخُدْرِي قَالَ: قَالَتِ النِّسَاءُ لِلنبي ﷺ سے کہا کہ آپ سے فائدہ اٹھانے میں) مرد ہم سے آگے بڑھ گئے ( عَلَينا عَلَيْكَ الرِّجَالُ، فَاجْعَلْ لَنَا يَوْمًا مِنْ ہیں، اس لئے آپ اپنی طرف سے ہمارے (وعظ کے) لئے (بھی) کوئی نَفْسِكَ فَوَعَدَهُنَّ يَوْمًا لَقِيَهُنَّ فِيهِ دن خاص فرما دیں۔تو آپ نے ان سے ایک دن کا وعدہ فرمالیا۔اس فَوَعَظَهُنَّ وَأَمَرَهُنَّ، فَكَانَ فِيمَا قَالَ لَهُنَّ : دن عورتوں سے آپ نے ملاقات کی اور انہیں وعظ فرمایا اور ((مَا مِنْكُنْ امْرَأَةٌ تُقَدِّمُ ثَلَاثَةٌ مِنْ وَلَدِهَا إِلا (مناسب) احکام سنائے جو کچھ آپ نے ان سے فرمایا تھا اس میں یہ كَانَ لَهَا حِجَابًا مِنَ النَّارِ))۔فَقَالَتِ امرأة بات بھی تھی کہ جو کوئی عورت تم میں سے (اپنے) تین (لڑکے) آگے وَالْيْنِ؟ فَقَالَ: ((وَاثْنَيْنِ))۔بھیج دے گی تو وہ اس کے لئے دوزخ سے پناہ بن جائیں گے۔اس پر