مسیح اور مہدیؑ — Page 224
مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 224 عالم اسلام کا زوال اور ظہور مہدی صدی میں من وعن پوری ہو چکی ہیں۔جیسا کہ مسلک اہلحدیث کے علامہ نواب نور الحسن خان ابن نواب صدیق حسن خان نے قریباً چودھویں صدی ہجری میں ان علامتوں کے پورا ہونے کا واضح اعتراف کرتے ہوئے لکھا تھا: و جس دن سے اس امت میں یہ فتنے واقع ہوئے پھر یہ امت یہ ملت نہ سنبھلی اس کی غربت اسلام کی کمیابی روز افزوں ہوتی گئی یہاں تک کہ اب اسلام کا صرف نام قرآن کا فقط نقش باقی رہ گیا ہے مسجد میں ظاہر میں تو آباد ہیں لیکن ہدایت سے بالکل ویران ہیں علماء اس امت کے بدتر ان کے ہیں جو نیچے آسمان کے ہیں انہیں سے فتنے نکلتے ہیں انہیں کے اندر پھر کر جاتے ہیں۔“ اقتراب الساعۃ صفحہ 12 مطبع مفید عام ) مولانا حالی نے چودہویں صدی کی اس حالت زار کا نقشہ یوں کھینچا تھا: رہا دین باقی نہ اسلام باقی فقط اسلام کا رہ گیا نام باقی علامہ اقبال نے بھی چودہویں صدی کے مسلمانوں کو مخاطب کر کے کہا: وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود یہ مسلماں ہیں جنھیں دیکھ کے شرمائیں یہود یوں تو سید بھی ہو، مرزا بھی ہو ، افغان بھی ہو تم سبھی کچھ ہو، بتاؤ تو مسلمان بھی ہو! دین اسلام پر ایسے نازک حالات میں جب امت نے بگڑ کر یہود کی مماثلت اختیار کر لینی تھی۔ایسے ہی گمراہی کے زمانہ میں ان کی اصلاح کے لئے ایک مثیل مسیح کی خبر دی گئی تھی۔ہاں اسلام کے خادم اس مہدی کی پیشگوئی جس نے ایمان کو آسمان کی بلندیوں سے واپس لا کر دنیا میں قائم کرنا تھا۔( بخاری کتاب التفسير تفسير سورة الجمعة ) اہلسنت اور شیعہ مسلک کی احادیث اس بات پر بھی متفق ہیں کہ امام مہدی ، امت میں ایک لمبے انقطاع کے بعد لوگوں میں اختلاف اور فتنوں کے ظہور کے وقت آئے گا۔(كشف الغمة في معرفة الائمة الجزء الثالث صفحه 271 دار الاضواء (بيروت 82 چنانچہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی چودہویں صدی کے اس بگڑے ہوئے زمانہ کی حالت میں تشریف لائے اور یہ دعویٰ کیا کہ: سو میں۔عیسی مسیح بھی ہوں اور محمد مہدی بھی مسیح ایک لقب ہے جو