مسیح اور مہدیؑ — Page 219
مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 177 عاد بالدبور))۔[ أطرافه في:۔۔[21۔0 ٠٥،٣٣٤٣ ،۳۲٠٥ 219 عکس حوالہ نمبر : 73 مسیح موعود اور امام مہدی کے مشترکہ کام استقاء کا بیان ہوا کے ذریعہ مرد پہنچائی گئی اور قوم عاد پچھوا کے ذریعہ ہلاک کر دی گئی تھی۔جنگ خندق میں بارہ ہزار کافروں نے مدینہ کو ہر طرف سے گھیر لیا تھا آخر اللہ نے پروا ہوا بھیجی، اس زور کے ساتھ کہ ان کے ڈیرے اکھڑ گئے، آگ بجھ گئی، آنکھوں میں خاک گھس گئی جس پر کافر پریشان ہو کر بھاگ کھڑے ہوئے۔آپ کا یہ اشارہ ای ہوا کی طرف ہے۔٢٧- بَابُ مَا قِيلَ فِي الزَّلازِلِ والآيات باب بھونچال اور قیامت کی نشانیوں کے بیان میں ١٠٣٦ - حَدَّنَا أَبُو الْيَمَانِ قَالَ: أَخْبَرَنَا (۱۹۳۶) ہم سے ابو الیمان حکم بن نافع نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں شعَيْبٌ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزَّنَادِ عَنْ عَبْدِ شعیب نے خبر دی کہا کہ ہم سے ابو الزناد (عبد اللہ بن ذکوان) نے الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ عَن أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالی بیان کیا۔ان سے عبدالرحمن بن ہرمز اعرج نے اور ان سے ابو ہریرہ النبي : ((لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُقبض بنیاد نے بیان کیا کہ نبی کریم ملی علیہ نے فرمایا کہ قیامت اس وقت تک الْعِلْمُ، وَتَكْثر الزلازل، وَيَتَقَارَبَ الزمان، نہ آئے گی جب تک علم دین نہ اٹھ جائے گا اور زلزلوں کی کثرت نہ وَتَظْهَرَ الْفِتَنُ، وَيَكْثرَ الْهَرْجُ - وَهُوَ ہو جائے گی اور زمانہ جلدی جلدی نہ گزرے گا اور فتنے فساد پھوٹ الْقَتْلُ الْقَتْلُ - حَتى يَكْثرَ فِيْكُمُ الْمَالُ ہیں گے اور ”مہرج" کی کثرت ہو جائے گی اور ہرج سے مراد قتل ہے۔قتل اور تمہارے درمیان دولت و مال کی اتنی کثرت ہو گی کہ وہ راجع: ٨٥] امل پڑے گا۔ر سخت آندھی کا ذکر آیا تو اس کے ساتھ بھونچال کا بھی ذکر کر دیا، دونوں آئیں ہیں۔بھونچال یا گرج یا آندھی یا زمین دھننے میں ہر شخص کو دعا اور استغفار کرنا چاہئے اور زلزلے میں نماز بھی پڑھنا بہتر ہے لیکن اکیلے اکیلے۔جماعت اس میں مسنون نہیں اور حضرت علی برینہ سے مروی ہے کہ زلزلے میں انہوں نے جماعت سے نماز پڑھی تو یہ صحیح نہیں ہے (مولانا وحید الزماں مرحوم) ۱۰۳۷ - حَدَّلَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُتَنى قَالَ: (۱۰۳۷) مجھ سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے حَدَّلَنَا حُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ حسین بن حسن نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبداللہ بن عَوْنِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: ((اللهم عون نے بیان کیا، ان سے نافع نے بیان کیا، ان سے حضرت عبداللہ بَارِك لَنَا فِي شَامِنَا وَفِي يَمْنَا)) قال: بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا اے اللہ ! ہمارے شام اور یمن پر قَالُوا: وَفِي نَجْدِنَا۔قَالَ: قَالَ: ((اللهم برکت نازل فرما۔اس پر لوگوں نے کہا اور ہمارے نجد کے لئے بھی بَارِك لَنَا فِي شَامِنَا وَفِي يَمَنَا قَالَ : برکت کی دعا کیجئے لیکن آپ نے پھر وہی کہا "اے اللہ ! ہمارے شام قَالُوا: وَفِي نَجْدِنَا، قَالَ: قَالَ هناك اور یمن پر برکت نازل فرما" پھر لوگوں نے کہا اور ہمارے نجد میں ؟ تو الزَّلَازِلُ وَالْفِتَنُ، وَبِهَا يَطْلَعُ قَرْن آپ نے فرمایا کہ وہاں تو زلزلے اور فتنے ہوں گے اور شیطان کا