مسیح اور مہدیؑ — Page 84
مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 84 قرآن و حدیث میں رفع الی اللہ " کا مطلبہ میں اکثر روایات علماء اہل کتاب نے اسلام میں داخل کی ہیں۔“ أسبح في القرآن صفحه 538-539 دار الكتب الحديثه شارع جمہوریہ طبع اول ) حضرت بانی جماعت احمد یہ فرماتے ہیں: ,, 1 - " معالم میں لکھا ہے کہ وہب سے یہ روایت ہے کہ حضرت عیسی تین گھنٹہ کے لئے مر گئے تھے اور محمد بن اسحاق سے روایت ہے کہ نصاری کا یہ گمان ہے کہ سات گھنٹہ تک مرے رہے مگر مؤلف رسالہ ہذا کو تعجب ہے کہ محمد بن اسحاق نے سات گھنٹہ تک مرنے کی نصاری کی کن کتابوں سے روایت لی ہے۔کیونکہ تمام فرقے نصاریٰ کے اسی قول پر متفق نظر آتے ہیں کہ تین دن تک حضرت عیسی مرے رہے اور پھر قبر میں سے آسمان کی طرف اُٹھائے گئے۔اور چاروں انجیلوں سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے۔اور خود حضرت عیسی انجیلوں میں اپنی تین دن کی موت کا اقرار بھی کرتے ہیں۔بہر حال موت اُن کی ثابت ہے اور ماسوا ان دلائل متذکرہ کے یہود و نصاری کا بالاتفاق اُن کی موت پر اجماع ہے۔اور تاریخی ثبوت بتواتر اُن کے مرنے پر شاہد ہے۔اور پہلی کتابوں میں بھی بطور پیشگوئی اُن کے مرنے کی خبر دی گئی تھی۔اب یہ گمان کہ مرنے کے بعد پھر اُن کی روح اُسی جسم خاکی میں داخل ہو گئی اور وہ جسم زندہ ہو کر آسمان کی طرف اٹھایا گیا، یہ سراسر غلط گمان ہے۔“ (ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 225 ایڈیشن 2008) 2 مسیح (علیہ السلام) کے جسم کے ساتھ آسمان پر چڑھ جانے کے قصے کو ان کی بریت کی تدبیر کے طور پر تراشا گیا۔۔انہوں (یہودیوں) نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ مسیح نے امت کی نجات کی خاطر اس لعنت کو خود اٹھالیا ہے۔۔۔اور مسیح کا صعود اور ان کا لعنتی ہونا تین سو سال بعد مسیحیوں کے ہاں عقیدہ کے طور پر رائج ہو گیا بعد ازاں تین صدیوں بعد فیج اعوج کے مسلمانوں نے ان عیسائیوں کے بعض عقائد و خیالات کا تتبع کیا۔“ الھدی مترجم صفحہ 179 - روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 364 ایڈیشن 2008) 3 ان کی حیات کا عقیدہ عیسائی مذہب سے مسلمانوں میں در کر آیا ہے اور انہوں نے صرف اسی خصوصیت کی وجہ سے اسے معبود بنا لیا ہے۔پھر نصاری نے مال و دولت خرچ کر کے اس عقیدہ کی تمام دیہاتوں اور شہروں میں اشاعت کی کیونکہ ان میں کوئی بھی اہل فکر و نظر نہ تھا۔اور وہ جو مسلمانوں میں سے متقدمین ہیں، ان میں یہ بات صرف ٹھو کر اور لغزش کے سبب سے ہوئی ہے۔پس نا دانستہ طور پر خطا کرنے کی وجہ سے وہ اللہ کے نزدیک معذور قوم ہیں۔“ الاستفتاء مترجم صفحہ 94۔روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 660 ایڈیشن 2008)