مسیح اور مہدیؑ

by Other Authors

Page 78 of 708

مسیح اور مہدیؑ — Page 78

مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 78 عکس حوالہ نمبر : 21 تاریخ طبری جلد اول حصہ دوم قبر مسیح ناصری علیہ السلام حضرت عیسی علیہ السلام کا تذکر: غرض اس کتاب کو جاننے والا کوئی بھی نہ ملا۔قبر ( مینی ملایم) پھر گھر میں صندوق کے نیچے اس پتھر کو رکھ دیا جو کئی سال وہاں رہا۔پھر اچانک ہمارے ہاں ابن مان میں سے کچھ لوگ گھوڑوں پر آئے جو کہ تسبیح کے دانے اور میرے وغیرہ خرید رہے تھے ان سے میں نے پوچھا کہ کیا تمہاری کوئی کتاب ہے یا تمہاری زبان کا کوئی ماہر ہے؟ انہوں نے کہا ہاں ہے۔میں نے پتھر ان کو دکھایا تو وہ اس کو پڑھنے لگے اس میں لکھا ہوا تھا کہ یہ قبر رسول اللہ حضرت عیسی علیا نام ابن مریم علینہ ہے۔جو یہاں کے رہنے والوں کے لئے آیا تھا۔اس زمانہ کے لوگوں کے پاس وہ نبی بن کر آیا اور جب وہ فوت ہو گئے تو پہاڑ کی چوٹی پران کو دفن کیا گیا۔شاہ روم کی کارروائی : ابن اسحاق سے مروی ہے کہ حضرت عیسی علیا سلام کے ارتفاع کے بعد یہودی حواریوں پر ٹوٹ پڑے وہ انہیں قیمتی دھوپ میں ڈال دیتے اور طرح طرح کی تکلیفیں ان کو پہنچاتے تھے۔جب یہ بات شہنشاہ روم کو پہنچی۔اس زمانہ میں بنی اسرائیل روی کنٹرول میں تھے۔وہ بادشاہ ستارہ پرست تھا۔حضرت عیسی ملا شام کے اوصاف: اس بادشاہ کو یہ بات بتائی گئی کہ بنی اسرائیل میں ایک نبی آیا تھا جو مجموعہ کمالات تھا۔وہ اللہ کا پیغمبر تھا وہ عجیب وغریب۔چیز میں دکھاتا مردوں کو زندہ کرتا، بیماروں کو شفا دیتا مٹی گارے کے پرندے بناتا اور جب ان میں اللہ کے حکم سے پھونک مارتا تو وہ سچ سچ اڑنے لگتے۔وہ انہیں غیب کی خبریں بتا تا تھا لیکن بنی اسرائیل نے ایسے نبی کو قتل کر ڈالا۔شہنشاہ روم کا عیسائیت قبول کرنا: بادشاہ نے افسوس کرتے ہوئے درباریوں سے کہا کہ تمہارے لئے ہلاکت ہو تم لوگوں نے پہلے کیوں نہ بتایا۔خدا کی قسم اگر مجھے پہلے معلوم ہوتا تو میں بنی اسرائیل کو یہ کام نہ کرنے دیتا۔اب بادشاہ نے پھنسے ہوئے حواریوں کی طرف اپنے لوگوں کو بھیجی جو انہیں بنی اسرائیل کے ظالمانہ چنگل سے چھڑا کر لائے۔بادشاہ نے حواریوں سے حضرت عیسی علیا سلام کے دین اور ان کے احکامات کے متعلق سوالات کئے۔انہوں نے تمام تفصیلات بتا دیں۔بادشاہ متاثر ہوا اور حضرت عیسی میانی پر ایمان لے آیا۔اب اس نے بنی اسرائیل پر چڑھائی کی اور بہت سے یہودیوں کو قتل کر دیا۔اسی بادشاہ کے طفیل آج تک رومہ میں عیسائیت رائج ہے۔مورخین کا خیال بعض مؤرخین کا خیال ہے کہ حضرت عیسی ملی نام کی ولادت انسوں کے دور حکومت میں ہوئی انسوطوں کا دور حکمرانی چھپن برسوں پر محیط رہا اور اس کی بادشاہت کے بیالیسویں سال حضرت عیسی میرا نام پیدا ہوئے۔جب حضرت مینی میلینا کی پیدائش ہوئی تو اس وقت بیت المقدس پر رومیوں کی حکومت تھی چنانچہ رومی بادشاہ قیصر کی طرف سے ہیر دوس کبیر بیت المقدس کا حکمران تھا۔اس دوران اس کے پاس شاہ ایران کا وفد آیا یہ وفد مولا مسیح کی طرف جارہا تھا مگر غلطی