مسیح اور مہدیؑ

by Other Authors

Page 50 of 708

مسیح اور مہدیؑ — Page 50

مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 50 50 صحابہ رسول کا پہلا اجماع اور وفات عیسی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی پر بوسہ دیتے وقت حضرت ابو بکر نے اس کی تصریح بھی کر دی تھی۔لہذا مانا پڑے گا کہ کسی طرح حضرت عیسی دنیا میں نہیں آ سکتے۔گو بفرض محال زندہ ہوں ورنہ غرض استدلال باطل ہو جائے گی اور یہ صحابہ کا اجماع وہ چیز ہے جس سے انکار نہیں ہوسکتا۔شخص از ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 375 حاشیہ ایڈیشن 2008) چنانچہ حضرت عمرؓ نے جو پہلے رسول اللہ کی وفات کا انکار کر رہے تھے۔حضرت ابو بکر کی یہ تقریر سن کر گزشتہ تمام انبیاء کی وفات کی دلیل سے وفات آنحضرت تسلیم کرلی۔اور خود حضرت عمرؓ کے بقول ” خدا کی قسم ! یوں لگتا تھا کہ لوگوں کو معلوم ہی نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت بھی نازل فرمائی ہے یہاں تک کہ حضرت ابو بکڑ نے اسے پڑھا اور تمام صحابہ نے ان سے یہ آیت سیکھی ہے اور ان میں سے کوئی بھی ایسا نہ تھا جو یہ آیت تلاوت نہ کر رہا ہو۔حضرت عمر کا یہ آیت سن کر جو حال ہوا وہ مزید یوں بیان کرتے ہیں کہ ' جونہی میں نے حضرت ابو بکر کو یہ آیت پڑھتے سنا خدا کی قسم! مجھے ایسے لگا کہ میری ٹانگیں کاٹ دی گئی ہیں اور میرے پاؤں میرا بوجھ اٹھانے کے قابل نہ رہے یہاں تک کہ میں زمین پر ڈھیر ہو گیا جیسے ہی میں نے حضرت ابو بکر سے اس آیت کی تلاوت سنی کہ نبی کریم اپنے سے پہلے دیگر انبیاء کی طرح وفات پاگئے ہیں۔( بخاری کتاب المغازی باب مرض النبی و وفاته ) اور یہی حال دیگر تمام صحابہ کا تھا۔چنانچہ حضرت عمرؓ کے بیان کے مطابق یہ آیت سن کر اور گزشتہ نیوں کی وفات کی دلیل سے نبی کریم کی وفات پر یقین کر کے تمام صحابہ رونے لگے اور تب جا کر سقیفہ بنی ساعدہ میں جمع ہو کر خلافت ابو بکر کا فیصلہ ہوا۔( بخاری کتاب المناقب باب فضل ابی بکر) الغرض حضرت ابو بکر کی اس تقریر کے بعد تمام صحابہ رسول کا کل نبیوں کی وفات بشمول حضرت عیسی پر اجماع ہو گیا۔حضرت بانی جماعت احمدیہ فرماتے ہیں: اسلام میں یہ اجماع تمام اجتماعوں سے پہلا تھا کہ تمام نبی فوت ہو چکے ہیں۔“ (ضمیمہ براہین احمد یہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 285 ایڈیشن 2008) وفات مسیح کے مسلک کی تائید میں حضرت ابو بکر کا یہ مشہور شعر بھی زبان زد عام و خاص ہے: أَيْنَ مُوسَىٰ أَيْنَ عِيْسَى وَ أَيْنَ يَحْيِىٰ أَيْنَ نُوحٍ اَنْتَ يَا صِدِّيقُ صَادِقِ تُبُ إِلَى المَوْلَى الجَلِيل یعنی کہاں گیا موسیٰ اور کہاں گیا عیسی ؟ سکی اور نوح کہاں گزر گئے ؟ اے ابوبکر صدیق تو بھی