مسیح اور مہدیؑ — Page 677
مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 677 انبیاء کی بشریت اور بھول چوک کا امکان 40۔انبیاء کی بشریت اور بُھول چوک کا امکان حَدَّثَنِي رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ قَالَ: قَدِمَ النَّبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَهُمْ يَأْبُرُونَ النَّخْلَ يَقُولُونَ يُلَقِّحُونَ النَّخْلَ فَقَالَ مَا تَصْنَعُونَ قَالُوا كُنَّا نَصْنَعُهُ قَالَ لَعَلَّكُمْ لَوْ لَمْ تَفْعَلُوا كَانَ خَيْرًا فَتَرَكُوهُ فَنَفَضَتْ اَوْ قَالَ فَنَقَصَتْ قَالَ فَذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ إِذَا أَمَرْتُكُمُ بِشَيْءٍ مِنْ دِينِكُمْ فَخُذُوا بِهِ وَإِذَا أَمَرْتُكُمْ بِشَيْ ءٍ مِنْ رَأْيِ فَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ۔236 ( صحیح مسلم اردو جلد سوم صفحہ 588 مترجم مولانا عزیز الرحمان مکتبہ رحمانیہ لاہور) ترجمہ: حضرت رافع بن خدیج نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے اور اہل مدینہ کھجور کے درختوں پر جفتی ( کا عمل) کرتے تھے یعنی سرکھجور کے ذرات مادہ پر بکھیر تے تھے۔رسول کریم نے فرمایا تم یہ کیا کرتے ہو؟ انہوں نے کہا یہی ہمارا پرانا دستور ہے۔آپ نے فرمایا اگر تم ایسا نہ بھی کرو تو بھی ٹھیک ہے۔اس پر ان لوگوں نے یہ عمل ترک کر دیا۔جس کے نتیجہ میں کھجور کا پھل کم اترا۔راوی کہتا ہے کہ صحابہ نے اس بات کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا۔آپ نے فرمایا: کہ میں بھی ایک انسان ہوں جب میں تمہیں تمہارے دین کی کسی بات کا حکم دوں تو اسے اختیار کرو اور جب میں تمہیں اپنی رائے سے کوئی بات کہوں تو میری رائے ایک عام انسان جیسی ہی ہے۔اور ایک دوسری روایت میں ہے آپ نے فرمایا کہ تم اپنی دنیا کے معاملات بہتر جانتے ہو۔تشریح امام مسلم نے یہ حدیث صحیح مسلم میں درج کی ہے اور علامہ سیوطی نے اسے جامع الصغیر میں صحیح قرار دیا ہے۔خدا تعالیٰ کے نبیوں میں جو کمال درجہ کی سادگی ، بے تکلفی ،سچائی اور انکسار پایا جاتا ہے اس کا نمونہ اس حدیث سے عیاں ہے۔بے شک ہمارے آقا و مولا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء اور تمام نبیوں کے سردار تھے۔مگر اللہ تعالیٰ کے حکم پر آپ نے دنیا کے سامنے یہ اعلان بھی فرمایا