مسیح اور مہدیؑ

by Other Authors

Page 617 of 708

مسیح اور مہدیؑ — Page 617

مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 617 فیضانِ ختم نبوت“ چکی ہے اس لئے اگر یہ زندہ بھی رہتا تو نبی نہ ہوتا۔مگر رسول کریم ﷺ تو اس کے برعکس یہ فرما رہے ہیں کہ اگر ابراہیم زندہ رہتا تو سچا نبی ہوتا۔علامہ ابن حجر صیمی نے تو یہ روایت بھی بیان کی ہے کہ رسول اللہ نے حضرت صاحبزادہ ابراہیم کی تدفین کے موقع پر ان کی نبوت کی دماغی و روحانی صلاحیتوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: کہ خدا کی قسم وہ نبی ہے اور نبی کا بیٹا ہے۔218 ( فتاوی حدیثیہ اردو صفحہ 499 مترجم مفتی فرید مکتبہ اعلیٰ حضرت لاہور ) پس خاتم النبیین کے وہی معنی تسلیم کرنے پڑیں گے جو مشہور حنفی عالم ملاعلی قاری نے بیان فرمائے ہیں کہ ابراہیم زندہ رہتے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے تابع اور امتی نبی ہوتے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قول آیت خاتم النبیین کے ہرگز منافی نہیں کیونکہ ختم نبوت کے یہ معنی ہیں کہ آپ کے بعد ایسا کوئی نبی نہیں آئے گا جو آپ کی شریعت منسوخ کرے اور آپ کی امت میں سے نہ ہو۔( اسرار المرفوعة فى اخبار الموضوعة صفحه 285 المكتب الاسلامي یہی بات حضرت مولا نا محمد قاسم صاحب نانوتوی بانی دیو بند نے لکھی ہے کہ : اگر بالفرض بعد زمانہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی کوئی نبی پیدا ہو تو پھر بھی خاتمیت محمدی میں کچھ فرق نہ آئے گا۔“ تحذير الناس صفحه 85 مکتبه حفیظیه گوجرانوالها اسی طرح علامہ عبد الحئی لکھنوی لکھتے ہیں : 219 220 علمائے اہل سنت بھی اس امر کی تصریح کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے عصر میں کوئی نبی صاحب شرع جدید نہیں ہو سکتا اور نبوت آپ کی تمام مکلفین کو شامل ہے اور جو نبی آپ کے ہم عصر ہوگا وہ متبع شریعت محمد یہ ہو گا۔“ ( دافع الوساوس فی اثر ابن عباس صفحہ 3 - مطبع یوسفی واقع فرنگی محل لکھنوء ) حضرت بانی جماعت احمد یہ فرماتے ہیں: میں اُس کے رسول پر دلی صدق سے ایمان لایا ہوں اور جانتا ہوں کہ تمام نبوتیں اُس پر ختم ہیں اور اُس کی شریعت خاتم الشرائع ہے مگر ایک قسم کی نبوت ختم نہیں یعنی وہ نبوت جو اُس کی کامل پیروی سے ملتی ہے اور جو اُس کے چراغ میں سے نور لیتی ہے وہ ختم نہیں کیونکہ وہ محمدی نبوت ہے یعنی اُس کا ظل تجلیات الہیہ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 412) ہے۔66