مسیح اور مہدیؑ — Page 616
مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 616 فيضان 35۔فیضانِ ختم نبوت 66 حَدَّثَنَا عَبْدُ القُدُوْسِ بْنُ مُحَمَّدِ ثَنَا دَاوُدُ بْنُ شَبِيْبِ الْبَاهْلِيُّ ثَنَا إبْرَاهِيمُ بْنُ عُثْمَانَ ثَنَا الْحَكَمُ بْنُ عُتَيْبَةٍ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا مَاتَ إِبْرَاهِيمُ ابْنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: إِنَّ لَهُ مُرْضِعًا فِي الْجَنَّةِ وَلَوْ عَاشَ لَكَانَ صِدِّيقًا نَبِيًّا وَلَوْعَاشَ لَعُتِقَتْ اخْوَالُهُ الْقِبْطُ وَمَا اسْتَرَقَ قِبْطِى۔216 (سنن ابن ماجہ اردو جلد اول صفحه 511 مترجم مولانامحمد قاسم امین مکتبة العلم لاہور ) ترجمہ: حضرت ابن عباس بیان فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ کے صاحبزادے حضرت ابراہیم فوت ہوئے تو رسول اللہ نے ان کی نماز جنازہ ادا کی اور فرمایا جنت میں اس کو ایک دودھ پلانے والی ہوگی اور اگر یہ (ابراہیم ) زندہ رہتا تو سچا نبی ہوتا۔اور اگر یہ زندہ رہتا تو اس کے نھیال جو مصر کے قبطی ہیں آزاد کر دیے جاتے اور کوئی بھی قبطی غلام نہ رہتا ( یعنی وہ کفر کی غلامی سے رہائی پاتے۔) تشریح ابن ماجہ کے علاوہ یہ روایت مسند احمد بن حنبل میں ایک اور سند سے حضرت انس بن مالک سے بھی مروی ہے اور اس کے سب راوی عبد الرحمان بن مہدی ، سفیان بن سعید اور اسماعیل بن عبدالرحمن السدی ثقہ ہیں۔(تقریب التہذیب جلد اول صفحه 540 ، 333 مترجم مولا نا محمد نیاز احمد مکتبہ رحمانیہ لاہور۔217/ میزان الاعتدال جلد اول صفحہ 321 مترجم مولانا ابوسعید مکتبہ رحمانیہ لاہور ) سورۃ احزاب کی (41) آیت خاتم النبین 5 ہجری میں نازل ہوئی۔صاحبزادہ ابراہیم اس کے بعد 8 ہجری میں پیدا ہوئے۔اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی آیت خاتم النعمتین سے یہ معنی سمجھے ہوتے کہ آئندہ امت میں ہر قسم کی نبوت ختم ہو چکی ہے تو اپنے بیٹے ابراہیم کے بارہ میں آپ یہ فرماتے کہ بے شک اس میں نبوت کی استعداد میں تو موجود ہیں لیکن چونکہ آیت خاتم النبیین نازل ہو