مسیح اور مہدیؑ — Page 41
مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 41 عکس حوالہ نمبر : 9 نصر الباري بلیغ کی تعلیل ہو گی۔تفسیر نبوی کی رو سے وفات عیسی کا قرآن سے ثبوت كتاب التفسير وقال ابن عباس متوفيك مهـ اشارہ ہے آیت کریمہ او قال الله يا عيسى الى متوفيك در افعك الله - (سوره آل عمران) اور این جناسرا نے فرمایا ہے کہ متوفیک کے معنی ہیں میک یعنی میں کچھ کو مار ڈالنے والا ہوں ، یہ لفظ است اس سورہ یعنی سورۃ کا ذرہ میں نہیں ہے اس لئے شارح بخاری علامہ عینی رو اس مقام پر نا را ملی و خکلی ظاہر کر رہے ہیں کہ یہ بے محل ہے۔لیکن امام بخاری ہونے اس کو سورہ مائدہ میں اس مناسبت سے لایا ہے کہ اس سورہ میں سے خلفا توفيتنى كنت انت المرقيب ظاہر ہے کہ دونوں کا مادہ ایک ہے اس لئے اس کی تفسیر یہاں بیان کر دی ہے حمد ثنا موسى بن اسمعیلى قال حدثنا ابراهيم بن محل عن صالح بن كيسان عن ابن شهاب عن سعيد بن المسيب قال البحيرة التي تمنع درها للطواغيت فلا يحلبها احد من الناس، والسائبة التي كانوا يستبونها لا يهتهم لا يحمل عليها شئ قال وقال ابو هريرة قال رسول الله صلى الله عليه وسلم رأيت عمرو بن عامر الخزاعي قصبه في النار كان اول من سليب السوائب، والوصيلة الناقة البكر تبكر في أول نتاج الأبل تونسي بعد بانثي وكانو اليستيونها لطواغيتهم إن وصلت احديهم بالأخرى ليس بينهما ذكر والحام محل الأبل يضرب الضراب المحدود فاذا قضى ضرابه ودعوه للطاغيت واعفوه من العمل فلم يحمل عليه في وستوه الحام وقال لى ابو اليمان اخبرنا شعيب عن الزهري قال سمعت سعيد أقال يخبره بهذا قال وقال ابوهريرة سمعت النبي صلى الله عليه وسلم نحوه ورواه ابن الهاد عن ابن شهاب عن سعيد عن ابي هر بريار صلى الله عليه وسلم ترجمہ اللہ حضرت سعید بن صیت نے بیان کیا کہ بحیرہ دو اونٹنی ہے جس کا دودھ بنوں کے نام پر روک لیا جائے ریعنی بتوں کے لئے وقف کر دیا جائے ، پھر اس کا دور سے کوئی شخص نہ رو ہے۔اور سائبہ وہ جاتی ہے جس کو وہ اپنے جنوں کے نام پر آزاد چھوڑ دیتے ہیں اور اس پر کوئی چیز لادی نہیں جاتی رنہ کوئی سواری کی جاتی (یعنی سانڈ ، قال وقال او سعید بن مسیب نے بیان کیا کہ ابو سورہ نے بیان کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میں نے عمرو بن عامر خزامی کو دیکھا کہ وہ دوزخ میں اپنی آنتوں کو سیٹ رہا تھا، اسی نے رہے پہلے سائیہ (سانڈ چھوڑنے کی رسم نکالی تھی، اور وصیلہ دو نوجوان اوملتی تھی جو پہلے پہل اونٹنی زیادہ بچی منشی ، پھر دوسری مرتبہ بھی اونٹنی ہی جنتی ریعنی نراد نٹ نہیں جنتی، ایسی اونٹنی کو بھی وہ بتوں کے نام پر چھوڑ دیتے تھے ، اگر وہ لگا تار در بارا و نیشتیاں جنتی تو ان دونوں اداروں کے درمیان کوئی نہ بچہ نہ ہوتا ، اور حالم در حالی ، وہ نراونٹ تھا جو مادہ پر شمار کی ہوئی جیتیں کرتا ر جفتی کرتی پھر جب ) اپنی مقررہ تعداد پوری کر لیتیار اس کے نطفے سے دس بچے پیدا ہو جاتے) تو اس کو بتوں کے نام پر چھوڑ دیتے