مسیح اور مہدیؑ — Page 553
مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 553 عکس حوالہ نمبر : 193 مسیح موعود کے حج کی پیشگوئی کا مطلب 시 علامات نیا مست والوں سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے۔میں پانی سے مراد اور پانی ہے جانے کے بعد بالوں میں لگ جاتاہے اور دھی صریح کرنے کے بعد بلوں سے کئے گتا ہے اور پانی بھرا می کنی و اگر بال سنوارتے ہیں پانی کے تارے سینے سے مراد حضرت عیسی کو انتہائی اگر یولاف اور تر داری کو کا یہ بیان کرتا ہے۔جیسے اس کی آنکھ نگر کا پھول نہیں ذاتا ہے ؟ کے بارے میں قاضی عیاض ہو نے پر لکھا ہے کہ وجال کی واہنی تو بالکل سلیٹ یعنی ہموار ہو۔گی کہ اُس جگہ آنکھ کا نام ونشان بھی نہیں ہوگا اور بایں آنکھ موجود تو ہوگی لیکن اس میں بھی پھولا ہوا ٹینٹ ہوگا در این نقلی سے مراد عبد الطرفی این قطن یہودی ہے جس کے بارے میں بچے بھی بیان ہو چکا ہے الفاظ کا شبہ میں کاف زائد ہے تو اظہار مبالغہ کیلئے استعمال ہوا ہے دجال کو ابن قطن کے ساتھ تشبیہ دینے کی وجہ یہ ہے کہ شاید ابن علی کا جہانی عالیہ کو اس طرح کا رہا ہوگا جیسا کہ دجال کا ہوگا یا اس اعتبار سے تشبیہ دی گئی ہےکہ اس کی آنکھ میں بھی ٹینٹ بھی تھکی تھی۔جال بین دو امیوں کے کاندھوں پر اتر کے طواف کرتانظر کیا تھا ظا ہران سے مراد وہ شخص ہیں اور اس : د جانا کے رفیق دمہ درگار ہوں گے جیسا کہ ان دو شخصی را سے مراد کہ جن کے کاندھے پر حضرت میں کہا تم رکھے ہوئے طواف کرتے ہوئے نظر آئے تھے اور در شخص ہیں بروق کے راستہ میں حضرت عیسی کے معین و مددگار ہوں گے اور شایدوہ و دونوں حضرات خود را در حضرت بندگی ہوں، اس میر تقع پر اشکال واقع بار ہے کہ دجال کا فر ہے، اس کو طواف کی حالت میں کھا جانا کیا بھی رکھتا ہے؟ اس کا جواب علما نے یہ رہا ہے۔مذکورہ دا قو ا نفرت کے مکا شفات میں سے ہے اس کا تعلق خواب سے ہے اور اس کی تعبیریہ ہے کہ آنحضرت کو اس خواب ی ا وا بیر رکھا گیا کہ ایک دو دن آئیگا ورت میں ہیں اور مرکر دینے کے اردگر ہوں گے کہ دین کو تار کیں اورنہ ونسا سے اس کی حفاظت کریں اور جال بی دین اور ہیں سوالی بھی ہیں اور ترکی دین کے گر زندہ ہا پھرے گاتا کہ گھات لگا کر دین کو نقصان پہنچا دے اور فتنہ و شمار پھیلاتے ہیں کامیاب ہو جائے بعض حضرات نے ایک خواب ہے دیا ہے کہ مکہ مکرمہ پر اسلام کا غلبہ ہو نے اور مشرکوں مسجد حرام کے قریب جانے کی مخالفت ناقد ہونے سے پہلے یہ حال کا فرد مشرک بھی خانہ کعبہ کا طواف کیا کرتے تھے ہیں اگر رجال بھی طواف کرتا ہو تو اس میں اشکال کی کیا بات ہے ایک یہ بات مجید ہے کہ مصور کے اس مکا سفر نواب سے موجودات کی دنیامیں کسی کافرا طواف کیا برا نام نہیں کی جب کہ کفر اور مشرکین کے لیے خاد کر کے عوان مکاشفہ یا سر خانہ کعبہ کی ما نعت کا تعلق موجودات کی اس دنیا سے ہے۔الفصل الثاني کرتا ہے دنبال کا ذکر دوسری فصل۔نت قيس في حديث تميم والداري سخرت فاطمہ بنت قیس رو تمیم داری کسے کی حدیث کے سلسلہ میں بیان کرتی ،۔قالت قال ماذا انا يا مترو تجر شعرها قال ما ہیں کہ میم داری نے کہا کہ جب میں جزیرہ میں داخل ہوائی اچانک مر گزرا ي كان أنَا المَسَاسَةُ اِذْهَبُ إلى ذلِكَ الْقَم تب إلى ذلك القصر ایک عورت پر ہوا جو اپنے بالوں کو تقسیتی تھی ا یعنی اس کے بال بہت چھکے ارجل جو شعرة مسلسل في الأغلال بڑے تھے جور میں پر جسٹتے رہتے تھے تمیمی نے کہا میں نے اس اء والأرض فقلتُ من انتقال قدرت کو دیکھ کر پوچھا کہ تو کون ہے؟ اس نے جواب دیا کہ میں جاسوسی کرنے والی ہوں اور رجال کی خبریں پہنچاتی ہوں تو اس عمل کی طرف ا میں کابیان ہے کہیں اس مل میں آیا وہاں کیا دیکھا ہوں کہ ایک شخص ہے جو اپنے بالوں کو مین ہے۔نہروں میں جکڑا ہوا ہے اور طوق پڑے ہوئے ہیں اور آسمان و زمین کے درمیان اچھلتا کو رہا ہے میں نے پوچھا کہ توکون ہے ؟ تو اس نے جواب دیاکہ میں ہوا ہوں، بوٹی