مسیح اور مہدیؑ — Page 496
مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 496 عکس حوالہ نمبر : 171 مرقاز شرع مشكوة أز موجلد دهم من ۱۵۷ رسول اللہ کے کامل غلام مہدی کا عالی مقام كتاب الفتن شربت الخمور ، فعل اور فاعل میں تغیر کے ساتھ شرب الخمر مذکور ہے۔لبس: مجہول کا صیغہ ہے۔صاحب مختصر فرماتے ہیں کہ لبس الحرير كاجمل العن آخر هذه الامة اولھا کی جگہ ذکر کیا ہے۔لیکن یہ صحیح نہیں ہے کیونکہ لعن آخر۔۔۔۔الخ حضرت علی کی اس روایت میں موجود ہے۔چنانچہ صحیح بات یہ ہے کہ "لبس الحریر کا جملہ تعلم لغیر الدین کی جگہ ذکر کیا گیا ہے۔پس دونوں روایتوں میں پندرہ باتوں کے ذکر میں مطابقت ہے۔لہذا علامہ طیبی کی یہ بات درست ہے کہ دونوں روایتوں میں پندرہ باتوں کا ذکر ہے اور صاحب مختصر کی یہ بات درست نہیں ہے، کہ دونوں روایتوں میں مجموعی طور پر پندرہ باتوں کا ذکر ہے، تاہم گذشتہ حدیث میں مذکور باتیں سولہ ہیں اھ۔لیجئے میں ان باتوں کو تفصیل کے ساتھ ذکر کرنے لگا ہوں جن کو مؤلف نے اجمالی طور پر ذکر کیا ہے، بلکہ اتنا اختصار کیا ہے کہ مطلب سمجھنے میں مخل ہے۔چنانچہ جامع میں منقول ہے: اذا فعلت امتى خمس عشرة خصلة حل بها البلاء اذا كان المغنم دولاً ، والأمانة مغنما، والزكاة مغرماً واطاع الرجل زوجته وعق امه وبر صديقه وجفا اياه وارتفعت الاصوات في المساجد وكان زعيم القوم ارذلهم، واكرم الرجل مخافة شره وشربت الخمور ولبس الحرير، واتخذت القينات والمعازف ولعن آخر هذه الامة - ” جب میری امت یہ پندرہ فصلتیں سر انجام دے گی تو ان پر آزمائش آئے گی : جب مال غنیمت کو دولت قرار دیا جائے امانت کو غنیمت سمجھا جائے جب مرد اپنی بیوی کا تابعدار ہو جائے اور اپنی ماں کا نافرمان ہو جائے۔اپنے دوست کو قریب کرنے لگے اور اپنے باپ کو دور کرنے لگے جب مساجد میں آوازیں بلند ہونے لگیں اور جب قوم و جماعت کے سر براہ اس قوم و جماعت کے فاسق لوگ بن جائیں، جب آدمی کی تعظیم اس کے شر کے اندیشہ کے باعث کی جانے لگئے جب شرا میں پی جانے لگیں، جب ریشم پہنا جانے لگئے جب لوگوں میں گانے والیوں اور ساز و باجوں کا رواج ہو جائے اور جب امت کے پچھلے لوگ پہلے لوگوں پر لعنت کرنے لگیں۔او لها فليترتقبوا عند ذالك ريحا حمراء او خسفا او مسخا۔رواه الترمذي عن على۔” او “ بیان نوع کیلئے ہے، اور واؤ جمع کیلئے ہے۔اس طرح تطبیق ہو جاتی ہے۔" ۵۳۵۲ : وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بن مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَذْهَبُ الدُّنْيَا ، يَمُلِكَ الْعَرَبَ رَجُلٌ مِنْ اَهْلِ بَيْتِى يُوَاطِنى اسْمُهُ إِسْمى ( رواه الترمذي وابوداود وفي رواية له) قَالَ لَوْ لَمْ يَبْقَ مِنَ الدُّنْيَا إِلَّا يَوْم لَطَوَّلَ اللهُ تَعَالَى ذلِكَ الْيَوْمَ حَتَّى يَبْعَثَ اللَّهُ فِيهِ رَجُلًا مِنِى أَوْ أَهْلِ بَيْتِى يُوَاطِنى اِسْمُهُ۔وَاسْمٌ آبِيْهِ اِسْمَ أبِى يَمُلاءُ الْأَرْضَ قِسْطاً وَعَدْلاً كَمَا مُلِئَتْ مِنْ ظُلْمًا وَجُورًا -